تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 501 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 501

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 477 [NA] خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال قادیان آگیا ہے تو انہوں نے روتے ہوئے گلے لگالیا اور کہا کہ تمہارا باپ تو میرا بھائی تھا۔تم اپنے وطن میں واپس آجاؤ۔میں تمہاری حفاظت کروں گا۔یہی وعدہ محمود طرزی صاحب نے کیا۔اور یہ بھی یقین دلایا کہ افغانستان میں کسی احمدی کو قطعا کوئی تکلیف نہ ہوگی۔کیونکہ ظلم کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔وفد کے دو کمرے ممبروں کے دل پر بھی نیک محمد خاں صاحب کی حالت زار دیکھ کر بہت اثر ہوا اور ان کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ایسے معزز خاندان کے بچے اس عمر میں اپنے عزیزوں سے جدا ہو کر دوسرے وطنوں کو جانے پر مجبور ہوں۔موجودہ شاہ افغانستان امیر امان اللہ خان کے وقت میں نہ ہو گا۔احمدی وفد اپنے نزدیک بہت کامیاب واپس آیا۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مزید احتیاط کرتے ہوئے مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ محمود طرزی صاحب سے ان کی واپسی پر ملیں اور ان سے احمدیوں پر ہونے والے ظلم کا تذکرہ کریں اور شاہ کاہل کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کی بھی اجازت لیں۔محمود طرزی صاحب نے ملاقات کے بعد ان احمدیوں کی تکلیف کا ازالہ کر دیا۔لیکن چونکہ افغانستان کے بعض علاقوں سے یہ خبریں برابر آرہی تھیں کہ احمدیوں پر برابر ظلم ہو رہا ہے۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے وزیر خارجہ افغانستان اور مشہور ترکی جنرل جمال پاشا ( مقیم افغانستان کو بذریعہ خط توجہ دلائی گئی۔اس کے جواب میں کابلی کی وزارت خارجہ کی طرف سے سردار محمود طرزی صاحب نے لکھا۔" رو قطعه مکتوب شما تاریخ ۳۰/ ماه اپریل ۱۹۲۱ء عیسوی بعنوان جناب جلالت ، آب جمال پاشاد بنام این خدمتگار عالم اسلام رسیده - مضامین و مطالب آنرا مطالعه کرده الی آخرہ دانسته شدیم - جوا جوابا ہے نگاریم که در سلطنت اعلیٰ حضرت غازی پادشاه معظم افغانستان هیچ یک زحمت یا تکلیفی از طرف حکومت درباره تابعین و متعلقین شما در خاک افغانستان ابراز نیافته "۔اگر سیا ہ اشخاص تابعین خود را که در خاک افغانستان سکونت دارند برائے ما بفرستید ممکن است اگر تکلیفی درباره شان وارد شده باشد رفع شود"۔یعنی آپ کے دو خط مورخه ۳۰/ اپریل ۱۹۲۱ء جناب جلالت آب جمال پاشا اور عالم اسلام کے اس خدمت گار کے نام پہنچے جن کے تمام مطالب و مضامین سے آگاہی ہوئی۔جو ابا لکھا جاتا ہے کہ اعلیٰ حضرت غازی امان اللہ خاں) کے عہد حکومت میں کابل کی سرزمین میں رہنے والے آپ کے متبعین اور متعلقین کو کسی قسم کی زحمت یا تکلیف حکومت کی طرف سے نہیں پہنچائی گئی اور اگر ملک افغانستان میں سکونت رکھنے والے احمدیوں کی فہرست ہمارے پاس بھیج دیں تو ممکن ہے کہ اگر انہیں کوئی تکلیف ہوئی ہو تو اس کا ازالہ کر دیا جائے۔זו