تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 500
تاریخ احمدیت جلد 476 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال کہ امام ابو حنیفہ جیل کے اندر بھی لوگوں کو درس دیتے رہے احمدی مسلمانوں کے عقائد اور عام مسلمانوں کے عقائد میں بوجہ احمدیت اور محمدیت بہت کچھ اختلاف ہے تا ہم اس امر کو بلا خوف تردید تمجید لینا چاہئے کہ ہمارے اندر وہ اخلاص و عزم اور وہ تڑپ اپنے مذہب کی حمایت و اشاعت کے لئے نہیں جو ایک معمولی احمدی بھی اپنے دل کے اندر رکھتا ہے۔کاش ! اسلام کے دوسرے فرقے بھی کفر سازی و کفر پروری کی بجائے ایسے ہی مجاہد پیدا کر سکیں " NP مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی دردناک شہادت حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالی ابھی لنڈن میں ہی تشریف رکھتے تھے کہ یہ درد ناک اطلاع پہنچی کہ امیر امان اللہ خاں شاہ افغانستان کے حکم سے کابل میں احمدی مبلغ مولوی نعمت اللہ خان صاحب ۳۱/ اگست ۱۹۲۴ء کو ۳۴ سال کی عمر میں محض احمد ی ہونے کی وجہ سے سنگسار کر دیے گئے - اناللہ وانا اليه راجعون) مولوی نعمت اللہ خاں صاحب (ابن امان اللہ ) کابل کے پاس ایک گاؤں خوجہ تحصیل رخہ ضلع پنج شیر کے رہنے والے تھے احمدی ہونے کے بعد وہ سلسلہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان چلے گئے اور مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔1919ء میں جبکہ وہ ابھی تعلیم پارہے تھے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان کو کابل کے احمدیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے افغانستان بھجوا دیا اور چونکہ احمدیوں کے لئے وہاں امن نہیں تھا۔اس لئے آپ نے انفرادی رنگ میں اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔اسی دوران میں ۲۰/ فروری ۱۹۱۹ء کو امیر حبیب اللہ خاں شاہ افغانستان قتل ہو گئے تو امیر امان اللہ خاں نے تخت حکومت پر بیٹھنے کے بعد اپنی سلطنت میں کامل مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا۔بیٹھنے میں - اس اعلان پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اگست 1919ء میں نیک محمد خاں صاحب غزنوی (سابق گور نر غزنی امیر احمد خاں کے فرزند) اور بعض دوسرے اصحاب کو افغانستان سے آمدہ ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے لئے منصوری بھیجوایا۔جو محمود طرزی صاحب (وزیر خارجہ افغانستان) کی قیادت میں انگریزوں سے معاہدہ صلح طے کرنے کے لئے آیا تھا۔حضور کا مقصد یہ تھا کہ افغان حکومت کی موجودہ پالیسی کا علم ہو جائے کہ کیا احمدیوں کے لئے بھی مذہبی آزادی ہے اور وہ احمدی افغان جو مذہب میں مداخلت کی وجہ سے اپنے وطن سے ہجرت کرک قادیان آگئے ہیں واپس اپنے گھروں کو جاسکتے ہیں۔اس افغان وفد میں ایک ہندو وزیر خزانہ افغانستان بھی شامل تھے انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ یہ میراحمد خاں (رئیس و سابق گورنر غزنی) کا لڑکا ہے اور چودہ سال کی عمر میں احمدیت کے اظہار کی آزادی نہ پاکر