تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 502 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 502

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 478 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال اس مراسلہ کے کچھ عرصہ بعد علاقہ خوست کے بعض احمدیوں کو پھر تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔تو جماعت احمدیہ شملہ نے سفیر افغانستان (متعین ہندوستان) کی معرفت حکومت افغانستان کو ایک درخواست بھیجی - ۲۴/ مئی ۱۹۲۳ء کو سفیر افغانستان کی معرفت جواب ملا کہ احمدی امن کے ساتھ حکومت کے ماتحت رہ سکتے ہیں ان کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا۔باقی وفادار رعایا کی طرح ان کی حفاظت کی جائے گی۔جواب میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ یہ معاملہ حضرت شاہ معظم کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اور آپ کے مشورہ سے لکھا جا رہا ہے۔اب جماعت احمدیہ پوری طرح مطمئن تھی کہ افغانستان میں مذہبی آزادی کا دور دورہ ہے مگر ۱۹۲۳ء کے آخر میں اطلاع ملی کہ دو احمدیوں کو حکومت افغانستان نے قید کر لیا ہے۔اس اطلاع کے چند ماہ بعد شروع جولائی ۱۹۲۴ء میں مولوی نعمت اللہ صاحب کو بھی حکام نے بلایا اور بیان لیا کہ وہ احمدی ہیں؟ پہلے تو ان کو یہ صحیح بیان دینے پر کہ وہ احمدی ہیں۔رہا کر دیا گیا۔مگر پھر جلدی ہی آپ جیل میں ڈال دیئے گئے۔"" ۲۸/ ذی الحجہ ۱۳۴۲ھ (مطابق یکم اگست ۱۹۲۴ء) کو مولوی نعمت اللہ صاحب نے قید خانہ سے فضل کریم صاحب بھیر دی ( مقیم کابل) کے نام ایک مفصل خط لکھا۔جس میں اپنے حالات ان الفاظ میں بتائے کہ یہ کمینہ داعی اسلام میں روز سے ایسے قید خانہ میں ہے جس کا دروازہ اور روشندان بھی بند رہتے ہیں اور صرف ایک حصہ دروازہ کھلتا ہے کسی کے ساتھ بات کرنے کی بھی ممانعت ہے جب میں وضو وغیرہ کے لئے جاتا ہوں تو ساتھ پہرہ ہوتا ہے خادم کو قید خانہ میں آنے کے دن سے لے کر اس وقت تک چار کو ٹھڑیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے لیکن جس قدر بھی زیادہ اندھیرا ہوتا ہے اسی قدر خدا تعالی کی طرف سے مجھے روشنی اور اطمینان قلب دیا جاتا ہے۔یہ خط لے کر حضرت خلیفتہ المسیح کے حضور بھیج دیں۔علاوہ ازیں بذریعہ تاریا خط میرے احمدی بھائیوں کو میرے حال سے اطلاع دے دیں تادہ دعا فرما دیں کہ خدا تعالٰی مجھے دین متین کی خدمت میں کامیاب کرے۔میں ہر وقت قید خانہ میں خدا تعالیٰ سے یہ دعا کر تا ہوں کہ الٹی اس نالائق بندہ کو دین کی خدمت میں کامیاب کر میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخشے اور قتل ہونے سے نجات دے بلکہ میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ الٹی اس بندہ نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ اسلام پر قربان کر " - ( ترجمه از فارسی) الغرض مولوی نعمت اللہ خاں محکمہ شرعیہ ابتدائیہ 17 میں پیش کئے گئے۔جس نے 11/ اگست ۱۹۲۴ء کو آپ کے ارتداد اور واجب القتل ہونے کا فتویٰ دے دیا۔۱۶/ اگست ۱۹۲۴ء کو آپ عدالت مرافعہ کابل کے سامنے پیش کئے گئے۔جس نے آپ کے دوبارہ بیانات لئے اور ارتداد سے متعلق پہلے