تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 499
تاریخ احمد بیست - جلد ۴ 475 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال 444444 شدت درد کے باعث جو میرے بازوؤں کو بوجہ سختی سے پیچھے کی طرف باندھنے کے ہوتی تھی جاگتا رہا جس وقت مجھ کو پیشاب آیا تو میں نے اسی طرح کہ جس طرح لیٹا ہوا تھا اوپر ہی کیا کیونکہ باندھنے اور پھر تختے کے ساتھ جکڑنے کے باعث میں ادھر ادھر بل نہیں سکتا تھا۔۔۔اس رات اپنی سخت کلیف دیکھ کر میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک دعا یہ کی کہ اے خدا تو میرے آقا حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ کو خبر دے دے کہ میں قید میں اس تکلیف میں مبتلا ہوں۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے۔۔۔۔دوسرے تیسرے دن مجھ کو بذریعہ خواب بتایا کہ حضور میرے لئے کوشش فرما رہے ہیں جس پر مجھ کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب درست ہے۔چنانچہ جب عاجز آزاد ہو کر قادیان آیا تو میرے استاذ محترم حضرت حافظ روشن علی صاحب اللہ نے مجھے کو واضح الفاظ میں فرمایا کہ حضور کو خوابوں کے ذریعہ تیرے قید ہونے اور تکالیف برداشت کرنے کی خبر دی گئی تھی۔چنانچہ اس بناء پر حضور نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب ان کو جو ان دنوں ناظر امور خارجہ تھے حکم دیا کہ آپ فورا ماسکو میں انگریز سفیر کو اس مضمون کا خط لکھیں کہ ہم نے ایک سال سے اپنا مبلغ بخارا کی طرف بھیجا ہوا ہے جس کا ہم کو کچھ علم نہیں ہو سکا "۔المختصر روسی حکام نے ڈیڑھ پونے دو سال تک آپ کو قید رکھنے کے بعد ہنزلی (ایران کی بندرگاہ) پر چھوڑ دیا۔جہاں سے آپ تهران - بغداد - بصرہ اور کراچی سے ہوتے ہوئے ۲۵ / اکتوبر ۱۹۲۶ء کی صبح کو قادیان پہنچ گئے۔مولوی صاحب کی واپسی پر "کشمیر اخبار " لاہور نے " ایک احمدی کا قابل تقلید مذہبی جوش" کے عنوان سے لکھا " مولوی ظہور حسین مبلغ احمدیت جو دو سال سے بالکل لا پتہ تھے پھر ہندوستان واپس آگئے ہیں اس دوران میں آپ کو بہت سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔وہ اپنے ایک خط میں بیان کرتے ہیں کہ انہیں بغیر پاسپورٹ کے بے کسی اور بے بسی کی حالت میں مشہد سے بخارا کی طرف جانا پڑا اور وہ بھی دسمبر کے مہینہ میں جبکہ راستہ برف سے سفید ہو رہا تھا۔راستے میں روسیوں کے ہاتھ پڑ گئے۔جہاں آپ پر مختلف مظالم توڑے گئے۔قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔بے رحمی سے مارا گیا۔تاریک کمروں میں رکھا گیا۔کئی کئی دن سور کا گوشت کھانے کے لئے ان کے سامنے رکھا گیا۔لیکن وہ سر فروش عقیدت جادہ استقلال پر برابر قائم رہا۔وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کوئی شخص جو قید خانہ میں انہیں دیکھنے آیا۔ان کی تعلیمات کی بدولت احمد کی ہوئے بغیر باہر نہ نکلا۔اس طرح تقریباً چالیس اشخاص احمدی ہو گئے۔جو باتیں آج مولوی ظہور حسین سے جیل کے اندر اور جیل سے باہر ظہور میں آئی ہیں قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں اشاعت مذہب کے لئے ایسی ہی تڑپ ہوا کرتی تھی۔کیا ہمارے ناظرین کو معلوم نہیں ہے