تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 498
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 474 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال ہوں نہ رستہ کا علم ہے۔ویزا بھی نہیں ملا۔خرچ بھی کم ہے۔مگران مایوس کن حالات کے باجود میں بخارا جانے سے رک نہیں سکتا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ حضور کی دعائیں مجھے نا کام نہ ہونے دیں گی۔مولوی صاحب یہ اطلاع دینے کے بعد اکیلے ہی ۱۸ دسمبر ۱۹۲۴ء کو بخارا کی طرف چل دیئے اور ڈیڑھ دن کے بعد رات روسی ترکستان کی سرحد میں داخل ہو گئے مگرار تھک اسٹیشن سے بخارا کا ٹکٹ لے کر گاڑی پر سوار ہو رہے تھے کہ گرفتار کر لئے گئے اور آپ کو جاسوس سمجھ کر پہلے ار تھک، پھر عشق آباد ، تاشقند اور ماسکو کے قید خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں رکھ کر بہت تکلیفیں پہنچائی گئیں۔مگر ان مصائب کے باوجود آپ نے قید خانہ میں بھی برابر تبلیغ جاری رکھی چالیس کے قریب قیدیوں کو احمدی کر کے روس میں احمدیت کا بیج بو دیا۔مولوی ظهور حسین صاحب نے اپنی " آپ بیتی " میں بڑی تفصیل سے اپنے درد ناک حالات شائع کر دیئے ہیں۔ہم " آپ بیتی " کا ایک اقتباس ذیل میں درج کرتے ہیں۔الغرض جب حکومت کے اکثر افراد نے جو میرے سخت مخالف ہو گئے انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے جاسوسی کا الزام لگا کر قتل کر دیا جائے۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہ شخص بیان میں قابو نہیں آتا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک کاغذ خود ہی فارسی زبان میں لکھ کر اس جگہ پر اس طرح پھینکا جائے کہ اسے علم نہ ہو میرے کمرے میں دو روشندان تھے وہاں سپاہی مقرر کر دیئے گئے تا کہ جب مجھے سوتا ہوا دیکھیں روشند ان کے ذریعہ سے کاغذ پھینک دیں اور ادھر دروازہ پر جو سپاہی ہے۔وہ فورا دروازہ کھول کر تلاشی لے کر کاغذ پکڑے اور مجھ کو ملزم ثابت کر دے۔۔۔۔پس میں نہ رات کو سوتا نہ دن کو اسی طرح کئی دن تک میرا حال رہا کہ نہ میں رات کو سوتا نہ دن کو۔نہ کھانا صبح کھاتا نہ شام کو۔جب مجھ کو سخت بھوک لگتی تو نہایت کم ایک دو حلقے کھا تا ادھر۔۔۔۔۔دوماہ سے متواتر سٹور کا گوشٹ قید میں دیتے تھے اور روی یا مسلمانوں کی کوئی تمیز نہ تھی میں بجائے گوشت کے گرم پانی سے روٹی بھگو کر کھایا کر تا تھا کئی کئی وقت پانی نہ پینے اور کھانا نہ کھانے کے باعث اور بہت کم سونے کے باعث۔۔۔۔سخت لاغر اور کمزور ہو گیا۔۔۔۔۔ایک بار رات کے آٹھ نو بجے کا وقت تھا ایک حاکم جو سپاہی سے بڑا عہدہ رکھتا تھا اس نے دروازہ کھول کر مجھے پکڑ لیا اور اوپر سے روشندان کی طرف سپاہی کو دیکھ کر روسی زبان میں کہا کہ جلدی کاغذ پھینک۔جب میں نے سپاہی کو روشندان سے دیکھا تو اس وقت بے اختیار میں اونچی آواز سے بڑے حاکم (یعنی اس کے عبدہ کا نام لے کر پکارا تو پانچ چار اور سپاہی میرے کمرے میں آئے اور مجھ کو پکڑ کر دوسرے تاریک دسیاہ کمرے میں لے گئے۔پھر ایک لکڑی کا اچھا لمبا اور چوڑا تختہ لائے جس پر مجھ کو اس قدر سخت جکڑا کہ میری بے اختیار چیخیں نکل گئیں۔میں ساری رات۔۔۔۔۔