تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 489
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 465 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سا بلائے۔پھر سب نے مل کر دعا کی۔دعا کرنے کے بعد حضور نے اپنے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب کی قبر پر کھڑے ہو کر (جو آپ کے اس سفر کے دوران انتقال فرما گئے تھے نماز جنازہ پڑھی۔مقبرہ بہشتی سے قصبہ میں داخل ہونے لگے تو حضور نے فرمایا۔حافظ روشن علی صاحب داخلہ شہر کی دعا پڑھیں گے۔سب دوست اسے بلند آواز سے دہراتے جائیں۔اس پر حافظ صاحب دعا کا لفظ لفظ بلند آواز سے پڑھتے اور سارا مجمع اسے دہراتا - دعایہ تھی۔آئبون تائبون عابدون لربنا حامدون صدق الله وعده و نصر عبده و هزم الاحزاب وحده۔" حضور میاں محمد اسمعیل صاحب ومیاں محمد عبد اللہ صاحب جلد سازان کے مکان سے متصل راستے میں سے گزرتے ہوئے مہمان خانہ کے قریب پہنچے۔جہاں حضرت میر محمد اسحق صاحب نے لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کی طرف سے خیر مقدم کیا۔یہاں نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کے فرزند میاں عباس احمد صاحب اونچے چبوترے پر بٹھائے گئے تھے۔جن کی طرف سے حضرت میر محمد اسحق صاحب نے ایک نان حضور کی خدمت میں یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ ” یہ تیرے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے "۔حضور نے نان لیا اور اپنے رفقاء میں تقسیم کر دیا۔اس کے بعد جلوس پھر بلند آواز سے محمد کا یہ ترانہ پڑھتا ہوا آگے بڑھا۔مدرسہ احمدیہ کی طرف سے سکول کے دروازوں کے قریب خیر مقدم اور خوش آمدید کے رنگین اور سنہری قطعے آویزاں تھے۔احمد یہ چوک میں پہنچ کر حضور نے سارے مجمع سمیت واپسی کی دُعا پڑھی۔اس وقت کا نظارہ نہایت ہی رقت آمیز اور موثر تھا خود حضور کی آواز میں رقت اور آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور حاضرین بھی فرط مسرت سے رو رہے تھے اور بعض کی چیچنیں بھی نکل گئیں۔اس رقت انگیز حالت میں حضور نے ڈبڈبائی آنکھوں اور دردناک لہجہ میں فرمایا۔”دیکھو رسول کریم ﷺ کی یہ دعا کیسی لطیف ہے جس کا نظارہ ہم آج دیکھ رہے ہیں۔یہی جگہ یہی مقام اور یہی گھر ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی کیا تو آپ اکیلے اور تنہا تھے۔کوئی ساتھی اور مددگار نہ تھا۔اس وقت چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ نعوذ باللہ یہ فریبی ہے یہ جھوٹا ہے۔دغا باز ہے اور دشمن کہتے کہ ہم اسے کیڑے کی طرح مسل دیں گے۔لیکن خدا تعالٰی نے اپنے وعدوں کے مطابق آپ کی تائید اور نصرت کی اور آج اسی کمند میں جکڑے ہوئے ہم اس قدر لوگ یہاں جمع ہیں آپ ہی کے طفیل ہمیں خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں فتح دی۔اس کے ذریعہ اور اسی کے وعدوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ عزتیں دیں جو در حقیقت اس کے لئے آئیں اور خدا