تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 488 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 488

تاریخ احمدیت جلد ۴ 464 خلافت ثانیہ کا گیار جوان سال گیارھواں برنگ جھنڈیوں سے سجا کر نہایت خوبصورت بنائی گئی تھی۔بیٹھنے کے لئے پہنچ رکھے گئے تھے اور سڑک پر بہت خوبصورت دروازہ بنایا گیا جس پر اھلا و سهلا و مرحبا کے علاوہ دوسرے قطعات بھی آویزاں تھے۔حضور کی تشریف آوری سے قبل بہت بڑا مجمع ہو گیا جس میں قادیان اور بیرونی جماعت کے احمدیوں کے علاوہ قادیان کے غیر احمدی آریہ اور سکھ اصحاب بھی تھے۔منتظمین نے نہایت عمدگی سے تمام اصحاب ایک ترتیب کے ساتھ سڑک سے لے کر شامیانے تک کھڑے کر دیئے سب سے آگے حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت میر محمد الحق صاحب اور خاندان مسیح موعود کے افراد کھڑے تھے۔اس وقت ہر فرد ہمہ تن چشم انتظار بن کر سڑک کی طرف ممنکی لگائے ہوئے تھا کہ دور سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی موٹر نظر آئی اور سب کے چہرے خوشی اور مسرت سے کھل گئے۔ہر ایک کا جی چاہتا تھا کہ اڑ کر سب سے پہلے اپنے محبوب آقا کے پاس پہنچے اور زیارت کرے۔لیکن انتظام کی پابندی کی وجہ سے مجبور تھے۔حضور بھی اپنے خدام کے وفور شوق کو جانتے تھے۔اس لئے حضور نے می انتظام کی پابندی کرانے کے لئے کہلا بھیجا کہ ہر ایک شخص اپنی اپنی جگہ کھڑا رہے۔اپنی جگہ چھوڑ دینے والے سے مصافحہ نہیں کیا جائے گا۔یہ ارشاد پہنچ جانے کے بعد حضور کی موٹر آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔موٹر پر سبز جھنڈا لہرا رہا تھا جو چودھری علی محمد صاحب پکڑے ہوئے تھے۔جب حضور دروازہ کے پاس پہنچے تو پہلے حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پھر حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے مصافحہ و معانقہ کیا اس کے بعد حضور نے بہت دیر تک باری باری تمام مجمع سے مصافحہ کیا جب سب لوگ مصافحہ کر چکے تو حضور نے آگے بڑھ کر حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب کو گلے لگالیا اور دیر تک معانقہ فرمایا۔اس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے تھے۔آپ کے بعد حضور نے حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت میر محمد اسمعیل صاحب سے معانقہ فرمایا اور پھر تمام مجمع کے ساتھ دعا فرمائی اور اپنے رفقاء سمیت قادیان کی طرف پیدل ہی چل دیئے۔اس وقت ایک عظیم الشان ہجوم ساتھ تھا۔حضور قصبہ میں داخل ہونے سے پہلے باغ میں پہنچے۔اس وقت پھولوں کے بہت سے ہار حضور کے گلے میں تھے۔حضور نے اس موقعہ پر فرمایا اگر یہ جائز ہوتا۔تو میں سارے پھول حضرت مسیح موعود کے مزار مبارک پر چڑھا دیتا کیونکہ یہ فتوحات کا نشان آپ ہی کے طفیل اور آپ ہی کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔اس کے بعد حضور نے مقبرہ بہشتی کے پاس پہنچ کر مٹی کے لوٹے سے پانی پیا۔پھر وضو کیا اور مزار مسیح موعود پر اکیلے دعا کرنے کو تشریف لے گئے تھوڑی دیر کے بعد حضور نے اپنے رفقاء سفر بھی پاس