تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 490
جلد ۴ 466 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال تعالٰی نے ہمیں ان انعامات کا وارث بنایا جن کا وعدہ آپ سے کیا گیا اور اگر حقیقت اور سچائی کو مد نظر رکھا جائے تو سچ ہے کہ ساری بڑائیاں حضرت مسیح موعود کے لئے ہیں۔محمد ال کے لئے ہیں اور خدا تعالی کے لئے ہیں"۔یہ الفاظ فرمانے کے بعد حضور اس دروازہ میں سے گزر کر جو مسجد مبارک کے نیچے نہایت خوبصورتی کے ساتھ بنایا اور بیل بوٹوں سے سجایا گیا تھا۔مسقف گلی میں سے ہو کر سیڑھیوں سے مسجد مبارک میں تشریف لے گئے اور مسجد کے اس حصہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسجد تھی۔حضور نے باجماعت دو رکعت نفل اپنے رفقاء سمیت ادا فرمائے۔نماز کے بعد حضور مجمع کو السلام علیکم کہہ کر اپنے گھر دار المسیح میں تشریف لے گئے - اس طرح حضور کا یہ مبارک اور تاریخی سفر جو قریباً چار ماہ پہلے ۱۲ / جولائی ۱۹۲۴ء کو شروع ہوا تھا ۲۴ نومبر ۱۹۲۳ء کو بخیر وخوبی ختم ہوا اور آپ یورپ کے لمبے اور طویل سفر سے کامیاب و کامران فتح مندی کامرانی کا جھونڈ الہراتے ہوئے قادیان کی مقدس سرزمین میں رونق افروز ہوئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف اسی روز حضرت مولانا شیر علی صاحب نے اہل سے اپنے رفقاء سفر اور ماسٹر عبد الرحیم قادیان کی طرف سے نماز عصر کے بعد مسجد اقصیٰ میں سپاسنامہ پیش کیا۔جس کے جواب میں حضور صاحب نیر کا شکریہ اور تحریک دعا نے سفر میں خدا تعالیٰ کی بے نظیر تائیدات پر روشنی ڈالی اور آخر میں اپنے رفقاء سفر اور حضرت ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔"آخر میں مضمون ختم کرنے سے پہلے میں اس سفر کے ساتھیوں کے متعلق بھی اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ان سے ہو سکا انہوں نے کام کیا۔انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان سے بھی ہوئی ہیں۔میں ان پر بعض اوقات ناراض بھی ہوا ہوں مگر میری ناراضگی کی مثال ماں باپ کی ناراضگی سی ہے جو ان کی اصلاح اور اس سے بھی زیادہ پُر جوش بنانے کے لئے ہوتی ہے۔مگر انہوں نے اچھے کام کئے اور بڑے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے اور میرے نزدیک وہ جماعت کے شکریہ کے مستحق ہیں خصوصاً اس لئے کہ میرے جیسے انسان کے ساتھ انہیں کام کرنا پڑا۔جب کام کا زور ہو تو میں چاہتا ہوں کہ انسان مشین کی طرح کام کرے نہ اپنے آرام کا اسے خیال آئے نہ وقت بے وقت دیکھے۔جب اس طرح کام کیا جائے تو بعض اوقات اچھے سے اچھے کام کرنے والے کے ہاتھ پاؤں بھی پھول جاتے ہیں۔مگر انہوں نے اخلاص سے کام کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کے لئے خصوصیت سے دعائیں کی