تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 479 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 479

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 455 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال عبد الرحمن صاحب قادیانی کا بیان ہے کہ اس وقت آپ کے چہرہ پر جلال اور شوکت تھی اور اس کے ساتھ ایک ربود گی بھی تھی۔اس کے بعد خاموشی کے ساتھ آپ نے دعا فرمائی۔اس مقام کے پاس ہی ویلنٹائن نام ایک برج سا ہے جس پر ایک توپ رکھی ہوئی تھی۔حضور نے نماز قصر کر کے پڑھی اور اس میں بھی لمبی دعا کی اور زمین پر اکڑوں بیٹھ کر پتھر کے سنگریزوں کی مٹھیاں بھریں اور فرمایا۔کسری کے دربار میں ایک صحابی کو مٹی دی گئی تو صحابی نے مبارک فال لیا کہ کسری کا ملک ملی گیا اور لے کر رخصت ہوا۔شہنشاہ ایران نے آدمی بھیجے کہ وہ مٹی لے آئیں۔مگر صحابی نے واپس نہ کی اور خدا نے بھی اس مبارک فال پر وہ سرزمین صحابہ کو دے دی۔بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی اور درد صاحب نے ان سنگریزوں کی دو دو مٹھیاں بھر کر اپنی جیبوں میں ڈال لیں۔یہاں سے فارغ ہوتے ہی بھائی جی کے دل میں ایک پُرزور تحریک ہوئی اور آپ نے باآواز بلند مبارک باد دی اور بہت جوش سے حضرت مسیح موعود کا یہ مصرع پڑھا۔ع تو سچے وعدوں والا منکر کہاں کدھر ہیں ؟ ۳ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو حضور نے قیام لنڈن کا ساتواں ہفتہ ۳/ اکتوبر سے ۹/اکتوبر تک خطبہ جمعہ پڑھا اور کانفرنس مذاہب عالم کے آخری اجلاس سے اردو میں خطاب فرمایا۔جس پر نہایت ہی مسرت کا اظہار کیا گیا۔لیکچر ہال بالکل پر تھا۔نیز شام کو حضور نے " ریویو آف ریلیجز " لنڈن کی ترتیب مضامین اور دیگر امور پر مجلس شوری منعقد فرمائی - ۴/اکتوبر ۱۹۲۴ء کو حضور مع رفقاء انگلستان کے نئے مبلغ مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو لے کر پٹنی کے اس مکان کے دروازہ پر تشریف لے گئے۔جو مجوزہ مسجد میں کھلنے والا تھا۔اس مقام پر کھڑے ہو کر حضور نے تعمیر مسجد کی سکیم کا مختصر ذکر فرمایا۔پھر مکان کے اس کمرہ میں تشریف لے گئے۔جہاں ان دنوں نمازیں ہوتی تھیں اور بہت لمبی دعا فرمائی اور اس کے بعد اپنے دست مبارک سے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو اس مکان کی چابی عطا فرمائی اور پھر مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور ان کے نائب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کو مفصل ہدایات دیں ۷۰ اکتوبر کو حضور نے دار الامراء (House of Lords) کا اجلاس دیکھا اور 8 اور 9 اکتوبر کو دار العوام House of commons) کا اجلاس دیکھنے تشریف لے گئے۔قیام لنڈن کا آٹھواں ہفتہ ۱۰/ اکتوبر سے ۱۶/ اکتوبر تک یہ ہفتہ حضور کی گوناگوں مصروفیت کا ہفتہ تھا۔چنانچہ حضور نے ۱۰ را کتوبر کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ایک ڈاکٹر سے مشورہ کے لئے