تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 478
تاریخ احمدیت جلد ۴ 454 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال مانچسٹر گارڈین " نے (۲۴/ ستمبر ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں) لکھا۔اس کانفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ جو اس وقت ظاہر ہوا وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقہ کا ذکر تھا۔نئے فرقہ کا لفظ ہم نے آسانی کے لئے اختیار کیا ہے ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے تھے۔اس فرقہ کی بنا ان کے قول کے بموجب آج سے چونتیس سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائبل اور دوسری کتابوں میں ہے اس سلسلہ کا یہ دعوی ہے کہ خدا تعالٰی نے اپنے صریح الہام کے ماتحت اس سلسلہ کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ وہ نوع انسان کو اسلام کے ذریعہ خدا تعالی تک پہنچائے۔ایک ہندوستان کے باشندے نے جو سفید دستار باندھے ہوئے ہے اور جس کا چہرہ نورانی اور خوش کن ہے اور سیاہ داڑھی رکھتا ہے اور جس کا لقب ہر ہولی نس خلیفتہ المسیح الحاج میرزا بشیر الدین محمود احمد یا اختصار اخلیفتہ المسیح ہے مندرجہ بالا تحدی اپنے مضمون میں پیش کی۔جس کا عنوان ہے اسلام میں احمدیہ تحریک آپ کے ایک اور شاگر دنے جو سرخ رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھا۔آپ آپ کا پرچہ کمال خوبی کے ساتھ پڑھا آپ نے اپنے مضمون کو جس میں زیادہ تر اسلام کی حمایت اور تائید تھی۔ایک پُر جوش اپیل کے ساتھ ختم کیا۔جس میں انہوں نے حاضرین کو اس نئے مسیح اور اس نئی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے مدعو کیا۔اس بات کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین و خوشنودی کا چیئر ز کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کسی پرچہ پر ایسا نہیں کیا گیا تھا"۔( ترجمہ ) قیام لنڈن کا چھٹ ہفتہ ۲۶/ ستمبر سے ۲/ اکتوبر تک ۱۲۶ تمبر کو حضور نے کنز رویڈ کی HA درخواست پر ڈچ ہال لنڈن میں ہندوستان کے حالات حاضرہ اور اتحاد پیدا کرنے کے ذرائع پر ایک معلومات افزا لیکچر دیا - ۲۸/ ستمبر کو آپ کا ایک اہم مضمون "رسول کریم ﷺ کی زندگی اور تعلیم سے نوجوان بچے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں " کے موضوع پر لنڈن فیلڈ میں پڑھا گیا ۲۹/ ستمبر کو حضور کا بہت سا وقت ہندوستان کی ڈاک 1 - میں صرف ہوا۔اسی ہفتہ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ " ریویو آف ریلیجر " کا انگریزی ایڈیشن آئندہ لنڈن سے شائع ہوا کرے۔۲ اکتوبر کو حضور "ولیم دی کنگر" والی خواب کو پورا کرنے کے لئے خلیج میونسی پر پہنچے اور ایک کشتی لے کر اس مقام کی طرف تشریف لے گئے۔جہاں ولیم دی کنکر ر " اترا تھا۔حضور کشتی چھوڑ کر قریب ہی ایک مقام پر جس کا نام الیکرسی (لنگر گاہ) ہے۔کھڑے ہوئے اور خواب کی طرح اسی شکل و ہیئت میں ایک لکڑی پر دایاں پاؤں رکھ کر ایک فاتح جرنیل کی طرح چاروں طرف نظر کی۔حضرت بھائی