تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 442 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 442

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 434 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال والے اصحاب موٹروں میں سوار ہوئے اور یہ مقدس قافلہ آسمانی " ولیم دی کنکر ر" کی قیادت میں اللہ اکبر کے نعروں کے درمیان روانہ ہو گیا - اس سفر میں حسب ذیل اصحاب ہمرکاب تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب - حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال - حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد - - حضرت خان صاحب ذو الفقار علی صاحب - حضرت حافظ روشن علی صاحب - حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی - حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب - حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی - شیخ عبدالرحمن صاحب مصری - چوہدری علی محمد صاحب - میاں رحم دین صاحب - ان کے علاوہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب جو حضور کے ترجمان خصوصی کی حیثیت سے جا رہے تھے پہلے ہی انگلستان روانہ ہو چکے تھے۔اسی طرح چوہدری محمد شریف صاحب وکیل بھی اپنے خرچ پر حضور کے ہمراہ گئے۔بٹالہ سے دہلی تک حضور مع خدام قادیان سے روانہ ہو کر بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچے۔جہاں آپ کی انتظار میں خلقت کا بے پناہ اثر دھام تھا۔بٹالہ سے چل کر دہلی تک مختلف مقامات کی جماعتوں نے شرف ملاقات حاصل کیا اور دعاؤں کے ساتھ اپنے محبوب آقا کو الوداع کہا۔امرتسر، بیاس، جالندھر چھاؤنی ، پھگواڑہ اور دہلی میں آپ کے اور آپ کے رفقاء سفر کے فوٹو لئے گئے۔لدھیانہ سے آگے جاکر حضور نے قادیان کی یاد میں وہ مشہور نظم کی۔جس کا پہلا شعریہ تھا۔۵۳۵۲ -1 ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیاں معات حق تعالٰی دعائے قادیاں قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی حضور کے ہمراہ تشریف فرما تھے جو سہارنپور سے واپس ہوئے۔دہلی اسٹیشن پر دہلی ، بریلی، شاہ جہانپور، قائم گنج اور علی گڑھ کی جماعتوں نے حضور کا شاندار استقبال کیا۔امرتسر میں مستری محمد موسیٰ صاحب کی طرف سے برف کا انتظام تھا۔جو دہلی تک قائم رہا اور وہ خود بھی دہلی تک حضور کے ہم رکاب رہے۔دہلی سے بمبئی تک دہلی سے آگے متھرا اسٹیشن پر آگرہ کی جماعت کے علاوہ میدان ارتداد ملکانہ کے بعض مجاہدین مثلا ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم اور ماسٹر غلام محمد صاحب بھی حاضر تھے۔متھرا کے پلیٹ فارم پر بھی حضور کا فوٹو لیا گیا۔مجاہدین میدان ارتداد ملکانہ نے آگرہ تک حضور کی معیت کا فخر حاصل کیا۔متھرا اور آگرہ کے درمیان ملکانوں کے راستے میں جو