تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 441
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 433 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال اور وہ کوئی کلمہ خیر میرے حق میں بھی کہہ دے۔جس سے میرے رب کا فضل جوش میں آکر میری کو تاہیوں پر سے چشم پوشی کرے اور مجھے بھی اپنے دامن رحمت میں چھپالے۔آہ 1 اس کی غنا میرے دل کو کھائے جاتی ہے اور اس کی شان احدیث میرے جسم کے ہر ذرہ پر لرزہ طاری کر دیتی ہے۔پس میری جدائی حسرت کی جدائی تھی کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ میری صحت جو پہلے ہی کمزور تھی پچھلے دنوں کے کام کی وجہ سے بالکل ٹوٹ گئی ہے۔میرے اندر اب وہ طاقت نہیں جو بیماریوں کا مقابلہ کر سکے۔وہ ہمت نہیں جو مرض کی تکلیف سے مستغنی کر دے ادھر ایک تکلیف دہ سفر در پیش تھا۔جو سفر بھی کام ہی کام کا پیش خیمہ تھا اور ان تمام باتوں کو دیکھ کر دل ڈر تا تھا اور کہتا تھا کہ شاید کہ یہ زیارت آخری ہو۔شاید وہ امید حسرت میں تبدیل ہونے والی ہو۔سمندر پار کے مردوں کو کون لا سکتا ہے ان کی قبر یا سمندر کی تہ اور مچھلیوں کا پیٹ ہے یا دیار بعیدہ کی زمین جہاں مزار محبوب پر سے ہو کر آنے والی ہوا بھی تو نہیں پہنچ سکتی۔اس روز (۱۲/ جولائی ۱۹۲۴ء کو صبح کی نماز کے بعد سے ہی لوگ قادیان سے روانگی کا نظارہ مسجد مبارک کے قریب جمع ہونے شروع ہو گئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف سے خدام کا بھاری ہجوم ہو گیا۔۸ بجے کے قریب حضور نے بیت الدعا میں لمبی دعا کرائی پھر باہر تشریف لائے۔اصحاب مصافحہ کے لئے بے تابی کے ساتھ آگے بڑھے لیکن حکم ہوا کہ مصافحے سڑک کے موڑ پر ہوں گے۔اگر چہ منتظمین نے انتظام کیا تھا کہ حضور کو حلقہ کے اندر لے کر ہجوم کو پیچھے پیچھے رکھا جائے لیکن ہجوم کا ریلہ سنبھالے نہ سنبھلتا تھا۔کئی لوگ ایک دوسرے پر گرتے مگر کسی قسم کے ملال کے بغیر فورا اٹھ کر آگے بڑھنے کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتے۔منتظموں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہجوم کے گردو غبار سے حضور کو تکلیف ہوگی۔سب لوگوں کو قریب آنے سے روکنے کی کوشش کی مگر حضور نے حکم دیا کہ کسی کو روکا نہ جائے اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ میں بھی آہستہ آہستہ چلتا ہوں آپ لوگ بھی آہستہ چلیں تا زیادہ گرد نہ اڑے۔موڑ کے قریب پہنچ کر حضور نے سارے خدام سمیت پھر لمبی دعا فرمائی۔دعا کے بعد حضور مردوں کے ہجوم سے باہر تشریف لے گئے اور حضرت ام المومنین نے دیر تک حضور کو گلے لگا کر دعاؤں سے رخصت فرمایا۔حضرت ام المومنین سے الوداع ہونے کے بعد حضور نے خدام کو جو موڑ پر دو رویہ قطار میں کھڑے تھے شرف مصافحہ بخشا۔سب اصحاب سے مصافحہ کر لینے کے بعد حضور اور حضور کے ہمراہ جانے