تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 443
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 435 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال گاؤں پڑتے تھے حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے وہ حضور کو گاڑی میں دکھائے اور وہ جگہ بھی جہاں ہندو ٹھاکروں نے اشدھی کے خلاف پنچایت کی تھی۔عین اس وقت جب حضور ملکانہ کے علاقہ سے گزر رہے تھے علاقہ ملکانہ اور دوسرے اہم معاملات کے لئے دعا فرمائی اور اپنی جیب خاص سے ایک قربانی کے لئے روپئے مرحمت فرمائے۔اسی دوران میں گاڑی آگرہ پہنچ گئی 23 حضور آگرہ سے چل کر گوالیار اور جھانسی سے ہوتے ہوئے آدھی رات کے وقت بھوپال پہنچے جہاں حضرت حکیم عبید اللہ صاحب بل اور بعض دوسرے دوست موجود تھے۔۱۳/ جولائی ۱۹۲۴ء کی شام کو حضور نے اپنے رفقاء کو ارشاد فرمایا کہ وہ باہم صرف انگریزی یا عربی میں کلام کریں چنانچہ بمبئی اسٹیشن تک اس پر پورے طور پر عمل ہو تا رہا۔۱۴/ جولائی ۱۹۲۴ء کو عید الاضحیہ کی تقریب تھی۔حضور نے عید منماڑ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پڑھائی اور مختصر سا خطبہ پڑھا۔گاڑی اسی روز پانچ بجے شام کے بعد عیسی کے وکٹوریہ اسٹیشن پر پہنچی۔اسٹیشن پر حیدر آباد سکندر آباد سورت ایلیچ پور، مالا بار اور بمبئی کی جماعتیں موجود تھیں جس اخلاص و عقیدت کے ساتھ ان جماعتوں نے حضور کا خیر مقدم کیا اس کا اظہار الفاظ نہیں کر سکتے۔مصافحہ کے بعد حضور کا فوٹو لیا گیا۔جس کے معابعد حضور مولوی عبدالرحیم صاحب درد ، خان صاحب ذو الفقار علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو لے کر تھا مس تک کے دفتر میں تشریف لے گئے پھر انجمن احمد یہ بمبئی کی سیمن بلڈنگ میں آکر قیام پذیر ہوئے یہاں پہنچ کر بمبئی کے دو ایک سیٹھ آپ سے ملاقات کے لئے آئے اور حضور تبلیغ فرماتے رہے پھر ساڑھے بارہ بجے تک تحریرہ میں مصروف رہے۔دو سرے دن ۱۵/ جو ٹائی ۱۹۲۴ء کو بمبئی سے بذریعہ جہاز روانگی اور عدن میں ورود قریباً سات بجے حضور اپنے رفقاء سمیت بمبئی کی بندرگاہ پر تشریف لے گئے اور عرشہ جہاز سے جماعت کے نام ایک محبت بھرا برقی پیغام دیا جس میں فرمایا۔تم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ مجھے کس قدر محبت تم سے ہے لیکن یہ جدائی صرف جسمانی ہے میری روح ہمیشہ تمہارے ساتھ تھی اور رہے گی میں زندگی میں یا موت میں تمہارا ہی ہوں "۔بندرگاہ پر جماعت کے دوست بڑی کثرت سے الوداع کہنے کے لئے حاضر تھے۔حضور نے اس موقعہ پر ایک لمبی اور رقت انگیز اجتماعی دعا کرائی۔یہاں تک کہ جہاز کی روانگی کا وقت گزرنے لگا مگر جہاز کے افسروں پر بھی ایسی محویت طاری تھی کہ وہ نہ دعا ختم کرنے کے لئے کہہ سکتے تھے اور نہ جہاز روانہ کر سکتے تھے۔آخر حضور نے دعا ختم کی اور دعا کے ساتھ آسمان سے ترشح ہو ا حضور نے دعاؤں کے ساتھ