تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 19
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 19 سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری دنوں میں تو آپ نے موگریاں بھی رکھی ہو ئیں تھیں۔ان ورزشی کھیلوں کے علاوہ شکار سے بھی آپ کو رغبت تھی جس کی وجہ خود اپنے قلم سے لکھتے ہیں کہ ” میں ابتدائی ایام سے بندوق چلانے کا شائق رہا ہوں۔بچپن میں ہی مجھے شکار کھیلنے کا شوق تھا۔میں شکار خود نہیں کھاتا تھا۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لا کر دے دیتا تھا۔آپ چونکہ دماغی کام کرتے تھے اس لئے شکار کا گوشت آپ کے لئے مفید ہو تا۔اور آپ اسے پسند بھی فرماتے تھے۔اس وقت مجھے اتنی مشق تھی کہ میں پانچ چھ چھرے لے جاتا اور ہوائی بندوق سے چار پانچ پرندے مار لاتا تھا۔حالانکہ وہ بندوق بھی معمولی قسم کی ہوائی بندوق ہوتی تھی۔re آپ کشتی رانی اور تیرا کی بھی کرتے تھے۔چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک چھوٹی کشتی بھی جہلم سے منگوا کر دی تھی اور آپ کو تیرنا سکھانے کے لئے ابو سعید عرب مقرر ہوئے تھے۔اس زمانہ میں ڈھاب بڑی وسیع تھی مگر بعد میں ڈھاب پر کر کے اکثر جگہ مکانات بن گئے - حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب جو پہلی مرتبہ ۱۹۰۵ء میں قادیان آئے تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے حضور کو ڈھاب میں کشتی چلاتے دیکھا ہے۔حضرت مسیح موعود نے اپنی حیات طیبہ کے آخری زمانہ میں غالبا ۱۹۰۶ء کے قریب آپ کی سواری کے لئے ایک گھوڑی بھی خریدی جو نہایت عمدہ نسل اور عمدہ قد کی جو ان بچھیری تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خان عبد المجید خاں صاحب ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپورتھلہ فرزند اکبر حضرت منشی محمد خان صاحب) کو خط لکھا کہ یہ چالاک گھوڑی ہے اس کی بجائے کوئی اور گھوڑی بھجوائی جائے یا اس کو بیچ کر کوئی اور عمدہ گھوڑی بھجوا دیں۔حضرت شیخ عرفانی الکبیر نے مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم میں حضور کا پورا خط نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔اس مکتوب سے ظاہر ہے۔۔۔۔کہ حضور نے بچپن ہی سے صاحبزادوں کی تربیت ایک ایسے رنگ میں فرمائی جو ان کی آئندہ زندگی کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے۔خصوصیت سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی تربیت میں آپ کو خاص شغف تھا یہ گھوڑی حضرت امیر المومنین ہی کی سواری کے لئے لی گئی تھی۔اور حضرت امیرالمومنین ایک عمدہ شاہسوار ہیں "۔سید نا حضرت محمود بچپن میں ٹوپی پہنا کرتے تھے لیکن ایک دفعہ عید کے روز آپ نے ٹوپی پہن رکھی تھی کہ حضور نے آپ کو دیکھ کر فرمایا۔میاں تم نے عید کے دن بھی ٹوپی پہنی ہے آپ نے اسی وقت ٹوپی اتار دی اور پگڑی باندھ لی اور کچھ عرصہ بعد ٹوپی کا استعمال ہمیشہ کے لئے ترک کر دیا۔