تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 18 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 18

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 18 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے آپ میں شروع ہی سے اولوالعزمی اور جلال کا رنگ بہت نمایاں تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نہایت قدیمی اور مخلص صحابی حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری اپنا ایک چشم دید واقعہ تحریر فرماتے ہیں کہ۔اپریل یا مئی ۱۸۹۳ء کا ذکر ہے کہ میں ایک روز نماز عصر کے لئے مسجد کی طرف جا رہا تھا۔جب اس جگہ پہنچا جہاں حضرت سید احمد نور کابلی رضی اللہ عنہ کی دکان تھی۔تو میں نے دیکھا۔کہ اس سے شمال کی طرف چند قدم کے فاصلہ پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو اس زمانہ میں میاں صاحب یا میاں محمود کہلاتے تھے چند بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔میں آپ کو دیکھ ہی رہا تھا کہ سیدنار مولانا حضرت مولوی نور الدین بھی تشریف لے آئے اگر چہ آنجناب زمین پر اکڑو بیٹھنے کو پسند نہیں فرماتے تھے تاہم میاں صاحب کے قریب پہنچ کر اکثر و زمین پر بیٹھ گئے۔اور آپ کو اپنے ہاتھوں کے حلقہ میں لے لیا۔اور بڑی محبت کی نظروں سے آپ کو دیکھتے ہوئے پیار کے لہجہ میں فرمایا۔"میاں آپ کھیل رہے ہیں۔" میاں نے معصومانہ نظروں سے حضرت مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور جس لہجہ میں آپ سے سوال کیا گیا تھا بالکل اسی لہجہ میں بڑی تیزی سے جواب دیا کہ " بڑے ہوں گے تو ہم بھی کام کریں گے۔" سید نا حضرت مولوی صاحب نے یہ جواب سن کر فرمایا کہ ”خیال تو تمہارے پیو کا بھی یہی ہے۔اور نور الدین کا بھی واللہ اعلم بالصواب " مجھے " پیو" کے معنے معلوم نہیں تھے اس لئے میں یہ سمجھ نہیں سکا کہ سید نا حضرت مولوی صاحب کسی امر میں کس سے متحد الخیال ہیں۔جب سید نا حضرت مولوی صاحب مسجد کی طرف روانہ ہوئے تو ہمراہیوں میں سے کسی سے پوچھا کہ پیو کسے کہتے ہیں تو معلوم ہوا کہ باپ کو مگر یہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی متحد الخیال ہونے والی بات میں اس وقت نہیں دو سمجھا تھاوہ سیدنا حضرت مولانا نور الدین کے زمانہ خلافت میں مجھے معلوم ہوئی۔فالحمد لله جس زمانے کی یہ بات ہے اس زمانے میں حضرت امیر المومنین کی عمر چار سال یا اس سے کچھ تھوڑی ہی زیادہ معلوم ہوتی تھی۔مجھے آج بھی جب اس واقعہ کا خیال آتا ہے تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی نے اتنی چھوٹی عمر میں حضرت مولوی صاحب کا سوال کیسے سمجھا اور اس کا اتنا چیده و سنجیدہ اور پسندیده و برجستہ جواب کس طرح دیا تھا"۔ہمارے ملک کے بچوں میں ایک دلچسپ کھیل رائج ہے۔کہ ایک لڑکا بیٹھ جاتا ہے اور باقی سب لڑکے اس کے سر پر اوپر نیچے مٹھیاں بند کر کے رکھتے چلے جاتے ہیں آپ بھی بچپن میں یہ کھیل کھیلا کرتے تھے - مگر یہ بالکل ابتدائی عمر کی بات ہے ورنہ تعلیمی دور اور اس کے بعد آپ کی پسندیدہ کھیل بیڈ مٹن اور فٹ بال تھی۔جو اپنے زمانہ خلافت سے قبل آپ ایک عرصہ تک کھیلتے رہے۔or or