تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 20
تاریخ احمدیت جلد ۴ 20 سید نا حضرت خلیفہ السیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت آپ کا لباس ابتداء ہی سے نہایت سادہ رہا ہے۔شروع شروع میں آپ پرانے دستور کے مطابق پاجامہ پہنا کرتے تھے۔جو شلوار کے رواج سے پہلے عام طور پر سکولوں میں رائج تھا۔اور شرعی پاجامہ کہلا تا تھا۔لیکن طالب علمی کی زندگی میں آپ نے شلوار کا استعمال شروع کر دیا۔اس تبدیلی کی بھی ایک بڑی پُر لطف سرگزشت ہے جس کی تفصیل خود آپ ہی کے الفاظ میں درج کرنا زیادہ مناسب ہو گا۔فرماتے ہیں۔و بعض لڑکوں نے مجھے کہا میں شلوار پہنا کروں۔چنانچہ میں نے شلوار بنائی۔مجھے خوب یاد ہے جب پہن کر میں گھر سے باہر آیا۔تو میں نہیں سمجھتا کوئی چور یا ڈا کو بھی کوئی واردات کر کے اتنی ندامت اور شرمساری محسوس کرتا ہو گا جتنی کہ مجھے اس وقت شلوار پہننے سے محسوس ہوئی۔میں آنکھیں نیچی کئے ہوئے بمشکل اس مکان تک جو پہلے شفا خانہ تھا اور جس میں اس وقت ڈاکٹر عبد اللہ صاحب بیٹھا کرتے تھے آیا۔بھائی عبدالرحیم صاحب اور بعض دوسرے استادوں نے اس بات کی تائید بھی کی کہ شلوار اچھی لگتی ہے۔مگر مجھے اتنی شرم آئی کہ واپس جا کر میں نے اسے اتار دیا۔ایک خاص اور نمایاں وصف جو ابتدائے عمر سے آپ میں پوری شان کے ساتھ نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زبر دست محبت و عقیدت تھی کہ حد بیان سے باہر ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ رات کے وقت صحن میں سو رہے تھے کہ بادل زور شور سے گھر آئے اور بجلی نہایت زور سے کڑکی۔وہ کڑک اس قدر شدید تھی کہ ہر شخص نے یہی سمجھا کہ گویا بالکل اس کے پاس گری ہے۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو صحن میں سورہے تھے چار پائی سے اٹھ کر کمرہ کی طرف جانے لگے دروازہ کے قریب پہنچے کہ بجلی زور سے کڑکی۔میں اس وقت آپ کے پیچھے تھا۔میں نے اسی وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر آپ کے سر پر رکھ دئے اس خیال سے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے آپ پر نہ گرے۔اب یہ ایک جہالت کی بات تھی بجلیاں جس خدا کے ہاتھ میں ہیں اس کا تعلق میری نسبت آپ سے زیادہ تھا۔بلکہ آپ کے طفیل میں بھی بجلی سے بچ سکتا تھا۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہاتھوں سے بجلی کو نہیں روکا جاسکتا۔مگر عشق کی وجہ سے مجھے ان باتوں میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی۔محبت کے وفور کی وجہ سے یہ سب باتیں میری نظر سے اوجھل ہو گئیں اور میں نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا"۔آپ کا جذ بہ عقیدت و فدائیت اور ادب و اطاعت محض اس لئے نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے والد ماجد تھے۔بلکہ اس لئے کہ حضور اللہ تعالی کے مامور ہیں اور اس نے اپنے حکم