تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 426
تاریخ احمدیت جلد ۴ الفضل ۱۱۴ ستمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۱-۲- 418 خلافت عثمانیہ کار ۷۸ اس بارے میں جماعت کے جن اہل قلم اصحاب نے خدمات سرانجام دیں ان میں حضرت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق جناب شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار نور مولانا قاضی محمد نذیر فاضل اور ملک فضل حسین صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔(کارزار شد هی صفحه ۴۴) -A⭑ الفضل ۲۸/ اگست ۱۹۲۳ء صفحہ ۷-۸- قریشی محمد حنیف صاحب میرپوری نے موضع پیری میں ایک پرانی مسجد کی مرمت کی اور اپنے شاگردوں سے مل کر کنواں کھودا۔یہ گاؤں شدھ ہو چکا تھا۔مساجد کی تعمیر میں مجاہدین کو خود مسلمان مکانوں کی طرف سے بھی بہت مشکلات پیش آئیں۔چنانچہ ایک غیر احمدی دوست ڈاکٹر محمد اشرف صاحب ( مراد آبادی) نے یہ چشم دید واقعہ لکھا ہے کہ دوسرے مہینے میں اپنی نتھیال میں گیا یہ تحصیل ہا تھرس کا ایک گاؤں ہے یہاں میں نے دیکھا کہ میرے نانا کی چوپال پر قادیانی مولویوں نے مدرسہ کھول رکھا ہے اور بچے قرآن پڑھ رہے ہیں۔مولوی صاحب مجھ سے بڑے تپاک سے ملے اور جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ مجھے قادیانیوں سے کوئی تعصب نہیں ہے تو علیحدہ جاکر فرمانے لگے کہ اب تم اپنے نانا سے سفارش کر دو کہ اس چوپال پر جہاں مدرسہ ہے اور روزانہ یا جماعت نماز ہوتی ہے مسجد بنانے کی اجازت دے دیں۔بالآخر میں نے نانا صاحب سے مولوی صاحب کی خواہش بیان کردی اور اپنی طرف سے حمایت کے الفاظ بھی کہہ دیئے۔شام کو میں اور قادیانی مولوی آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ میرے نانا آگئے اور خالص برج بھاشا میں فرمانے لگے کہ مولوی اب تک تو میں خاموش تھا مگر آج آپ نے مسجد کی بات شروع کی ہے تو میں بھی کہہ ڈالوں۔دیکھئے جس ہفتہ آپ نے نماز پڑھنا شروع کی۔میری گائے مرگئی۔پھر دوسرے مہینے جب آپ نے باجماعت نماز پڑھنا شروع کر دیا تو میری بڑی لڑکی بیمار ہو گئی اور وہ اب تک بیار چلی جاتی ہے اب آپ ہی سوچئے کہ جب خدا ہم سے ذرا دور ہے تو یہ مصیبیں نازل ہوتی ہیں اور اگر اس کا گھر ہی یہاں بن گیا یعنی مسجد ) تو پھر وہ سب کو مار ڈالے گا۔ایک بھی ہم میں سے زندہ نہیں بچے گا۔اب مولوی صاحب پریشان تھے کہ ٹھاکر صاحب کو کیسے سمجھا ئیں بالآخر انہوں نے نماز چوپال پر پڑھنا بند کر دی اور باہمی صلح ہو گئی مسجد اس گاؤں میں اب تک نہیں ہے۔(نقوش آپ بیتی نمبر جون ۱۹۶۴ء) باقی نمبر ۳ مشتکار او پٹی ( الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۲۳ء صفحہ ۹) اکبر پور اور واحد پور (ضلع فرخ آباد) الفضل ۱ جولائی ۱۹۲۴ و صفحه ۲- صالح نگر (الفضل ،۱۳ جولائی ۱۹۲۴ء صفحه ۲) - بیان شیخ نیاز علی صاحب وکیل ہائیکورٹ لاہور - زمیندار ۲۳ جون ۱۹۲۳ء حوالہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه ۴۶ بیان شیخ غلام حسن صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول جہلم (زمیندار ۲۹ جون ۱۹۲۳ء) بحوالہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه ۴۶۔-Ar ۸۳ زمیندار ۲۲ فروری ۱۹۲۳ء بحوالہ رہنمائے تبلیغ صفحہ ۶۶- الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۱-۳- الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۶ ۸۶ سلسلہ احمدیہ صفحه ۳۷۱ ۸۷ تازیانہ (لاہور) ۱۹/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۱۰ (ایڈیٹر یوسف حسن) ہندو دھرم اور اصلاحی تحریکیں صفحہ ۴۲-۴۴ (مصنفہ پروفیسر پریتم سنگھ ایم۔اے) طبع اول ۱۹۴۱ء مطبوعہ امرت الیکڑک پریس ریلوے روڈ لاہور الفضل ۲۴/ اگست ۱۹۲۳ء صفحه ۱-۲- 20 بحواله الفضل / تمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۱۲- الفضل / ستمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۱-۲- ۹۲ بحواله الفضل ۲۱/ ستمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۱۲ ۹۳ باپ (لاہور) بحوالہ کار زار شد هی صفحه ۹۶ ۹۴ شرادهانند پر حجت تمام کرنے کے لئے جماعت احمدیہ دہلی نے ۲۲/ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو ایک جلسہ عام منعقد کیا جس میں مولانا