تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 425
417 لافت ثانیہ کار سواں سال تاریخ احمدیت۔جلد ۴ -۲ بحواله کارزار شدھی صفحہ ۱۱۹-۱۲۰- اس حقیقت کا اندازہ لگانے کے لئے یہ واقعہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ۷۰۶ / اپریل ۱۹۲۳ء کو اگرہ میں خلافت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دو تین مسلمان لیڈر شامل ہوئے جنہوں نے فتنہ ارتداد کا ذکر نہایت معمولی واقعہ کی طرح کیا۔مولوی آزاد سبحانی صاحب نے کہا کہ میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا ہمارا اصل مقصد سوراج حاصل کرتا ہے جب سوراج حاصل ہو جائے گا تو پھر ہم فیصلہ کرلیں گے کہ ہمیں اسلام پر قائم رہنا چاہئے یا ہندو ہو جانا چاہئے۔اس لئے سوامی شردھانند سے عرض کروں گا اور مسلمان دوسرے ہندوؤں سے عاجزی کے ساتھ درخواست کریں کہ وہ چند دن کے لئے شدھی کی تحریک روک دیں۔(الفضل ۱۶ / اپریل ۱۹۲۳ء صفحہ ۹) مولوی ابو الکلام صاحب آزاد نے ۱۵ / اپریل ۱۹۲۳ء کے زمیندار میں ایک بیان دینے پر اکتفا کی جس میں کہا۔میں پورے وثوق کے ساتھ رائے رکھتا ہوں کہ جن لوگوں نے موجودہ وقت میں یہ تحریک شروع کی انہوں نے ملک کا عام مفاد نظر انداز کر دیا۔مسلمانوں کو نہ چاہئے کہ شکوہ و شکایت کریں یا اپنے لئے کوئی ایساپوزیشن (رویہ اختیار کریں جس سے توقع اور خواہش نکلتی ہو۔یہ کام شروع نہ کیا جاتا تو بہتر تھا لیکن جب شروع کر دیا گیا ہے تو مسلمانوں کے لئے صرف ایک ہی چارہ کار رہ گیا ہے یعنی وہ بھی اپنا فرض سکون اور خاموشی کے ساتھ انجام دیں دوسروں کے لئے یہ نیا قدم ہے لیکن ان کے لئے ان کا اصلی اور دائگی فرض ہے اگر انہوں نے اپنا فرض ادا کیا ہو تا تو آج یہ نتائج پیش نہ آتے " تبرکات آزاد صفحه ۲۰۹-۲۱۰- مرتبه غلام رسول صاحب مهر شائع کردہ "کتاب منزل لاہور طبع اول جولائی ۱۹۵۹ء) علی برادران نے اس زمانہ میں عجیب عجیب تقریریں کیں۔مثلاً مولوی محمد علی نے کہا۔مسلمان شدھی کی وجہ سے ہندوؤں سے کیوں لڑتے ہیں جب کہ خود عرب میں مسلمانوں کو دوسرے مذہب والے اپنے اندر داخل کرنے کو کوشاں ہیں۔(وکیل ۹/ نومبر ۱۹۲۳ء کحواله الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۳) مولوی شوکت علی خادم کعبہ نے کہا۔مسلمانوں کو ہندوؤں کا احسان ماننا چاہئے کہ تم ذرا سی باجہ بجانے کی بات پر ہی ان سے لڑ پڑتے ہو۔میں تو کہتا ہوں کہ اگر ہندو بھائی تمہاری کسی مسجد کو بھی گرا دیں تو بھی تمہیں برداشت کرنا چاہئے۔(اخبار کیسری ۱/ نومبر ۱۹۲۳ء) نیز کہا۔میں اور بھائی محمد علی نے اور محترمہ بی اماں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ خواہ کوئی ہندو ہماری ماں بہن بہو بیٹی کی بے عزتی ہی کیوں نہ کرے ہم کبھی کسی ہندو کے بر خلاف کچھ نہیں کہیں گے۔امید ہے اس طرح آپس میں محبت اور ہمدردی پیدا ہو جائے گی۔(وکیل ۹/ نومبر ۱۹۲۳ء کواله الفضل ۲۰/ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۳) بحوالہ الفضل ۷ الجولائی ۱۹۲۳ء صفحه ۴ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه ۴۵ ۶۵ زمیندار بحواله الفضل ۲۸/ مئی ۱۹۲۳ء صفحه ۱۲ الفضل ۳/ مئی ۱۹۲۳ء صفحه ۸ کارزار شد هی صفحه ۱۱۲-۱۱۵ اخبار تہذیب نسواں (لاہور) ۲/ مئی ۱۹۲۵ء بحوالہ رہنمائے تبلیغ صفحہ ۱۶۵-۱۲۲- (مؤلفه سید طفیل محمد صاحب کو کھودال) - سرگزشت صفحه ۲۲۰ طبع اول جنوری ۱۹۵۵ ء از جناب عبد المجید صاحب سالک۔یہ صاحب ناظم عمومی شعبہ تبلیغ جمعیتہ علمائے ہند تھے۔سیاست لاہور (۱۲/ اگست ۱۹۳۵ء) نے جمعیتہ علماء ہند کی نسبت لکھا۔جمعیتہ کے شعبہ تبلیغ نے فتنہ ارتداد کے سلسلہ میں روپیہ جمع کرنے کے لئے اپلیں کرنے کے علاوہ کوئی عملی خدمت انجام نہیں دی ہے۔(بحوالہ رہنمائے تبلیغ صفحہ ۱۶۵) اے خالد اگست ۱۹۶۰ء صفحہ ۷ تا ۹۔۷۲ - میری کہانی (غیر مطبوعه از جناب ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم ملخصاً ۷ - الفضل ۸/ جنوری ۱۹۲۴ء صفحہ ۲۔الفضل ۱۳ اگست ۱۹۲۳ء صفحه ۲ ۷۵ الفضل ۴ جون ۱۹۲۳ء صفحہ ۲۔الفضل ۳۱ / اگست ۱۹۲۳ء صفحه ۲-