تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 414 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 414

406 ۱۹۲۳ء کو بریڈ لا ہال (لاہور) کے ایک پبلک لیکچر میں جہاں تعلیم یافتہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔بڑی وضاحت و صراحت سے پیش فرمایا۔چنانچہ حضور نے ہندو مسلم اتحاد قائم نہ رہنے کی وجوہ بتائیں کہ کس طرح ہندوؤں نے مسلمانوں کو ہندوستان سے مٹادینے کی کوشش کی ہے۔یہ حقیقت واضح کرنے کے بعد حضور نے مسلمانوں کو خود حفاظتی اقدامات کی طرف توجہ دلائی کیونکہ جیسا کہ سید رئیس احمد جعفری نے اپنی کتاب "حیات محمد لی جناح " میں لکھا ہے۔” شدھی اور سنگھٹن کے طوفان نے مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف ایک تلخی اور بد مزگی پیدا کر دی تھی۔لیکن وہ جوابی طور پر آمادہ عمل نہ ہوئے اس کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ پہلے انگریزوں سے آزادی حاصل کرلی جائے پھر یہ باہمی اور خانگی تنازعات طے کر لئے جائیں گے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے اور ہندو اپنا کام کئے جا رہے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلمانوں کو صرف خود حفاظتی کی طرف محض توجہ ہی نہیں دلائی بلکہ ان کو اسلامی نقطہ نگاہ سے اس کی عملی اور موثر تجاویز بھی بتا ئیں جن کا لب لباب یہ تھا۔پہلی تجویز: مسلمان اپنے تئیں مضبوط کریں۔جس کے لئے مسلم لیگ جیسی تنظیموں کا زندہ و قائم رکھنا ضروری ہے۔تا مسلمانوں کے قومی حقوق کا تحفظ ہو۔دوسری تجویز: مسلمانوں نے اپنی قومی زندگی کے سارے ذرائع دو سروں کو سپرد کر دیئے ہیں۔اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہئے اور تمدنی طور پر آپ کو آزاد کر لیتا چاہئے۔چھوت چھات کی وجہ سے ہندوؤں نے بالخصوص ملکانوں کے علاقہ میں مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔حضور نے فرمایا کہ مجھے بائیکاٹ نا پسند ہے مگر جب ہندو چھوت چھات کے باجود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے تو مسلمانوں کو بھی چھوت چھات کرنے میں نہ صرف کوئی حرج نہیں بلکہ موجودہ حالات میں ضروری ہے۔چھوت چھات کے علاوہ مسلمانوں کو صنعت و حرفت - ڈاکٹری اور وکالت کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ہندوستان کی داخلی اور خارجی تجارت کلی طور پر ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے اس طرف بھی مسلمان متوجہ ہوں۔تیسری تجویز مسلمانان ہند سیاسی اور مذہبی اختلافات نظر انداز کر کے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں اور مذہبی اختلاف کی وجہ سے کسی فرقہ کو جدا نہ کریں۔اسی طرح سیاسی اختلاف کی وجہ سے بھی علیحدہ ہونے کی پالیسی چھوڑ دیں۔مثلا الیکشن کا معاملہ ہے اس میں ایسا موقع بھی آیا ہے کہ ہماری جماعت کا ایک آدمی ایک حلقہ سے کھڑا ہو انگر در سرا شخص اس سے زیادہ لائق اور موزوں کھڑا ہوا تو