تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 413
احمدیت۔جلد ہم 405 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال قادیان میں احمدیہ ٹورنامنٹ کا اجراء جماعت میں جسمانی ورزش کا ذوق و شوق پیدا کرنے کے لئے نومبر ۱۹۲۳ء سے قادیان میں احمد یہ ٹورنامنٹ کا اجراء ہوا۔اور ہر سال قادیان میں کھیل کے باقاعدہ مقابلے ہونے لگے۔ٹورنامنٹ کی انتظامیہ کمیٹی کے صدر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے اور سیکرٹری مولوی عبدالرحیم صاحب درد مقرر ہوئے۔یہ ٹورنامنٹ سالہا سال تک کامیابی سے جاری رہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اس ٹورنامنٹ میں ہمیشہ بے حد دلچسپی لیتے تھے اور اپنے دست مبارک سے اول آنے والوں کو انعامات عطا فرمایا کرتے تھے۔حضور نے پہلے ٹورنامنٹ کے تقسیم انعامات کی تقریب پر تقریر کرتے ہوئے کہا۔ترقی کرنے والی قوم کے لئے ورزش ضروری ہے نیز فرمایا۔” جب میری خلافت کا زمانہ آیا تو میں نے ابتداء کام کے باعث ورزش کرنا چھوڑ دیا۔جس سے میری جسمانی حالت پر بہت برا اثر پڑا۔اس وقت میں نے ایک خواب دیکھی جس میں میں ایک شخص کو درزش کی ضرورت سمجھا رہا ہوں اس کو میں نے کہا بعض کھیل بعض لوگوں کے لئے جائز ہوتے ہیں۔مگر وہ لوگ جن کے ذمہ بڑے بڑے ذمہ داری کے کام ہوتے ہیں اگر وہ ورزشوں میں حصہ نہ لیں اور صحت جسمانی کا خیال نہ رکھیں تو ان پر گناہ ہوتا ہے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے۔۔۔۔سمجھا یہ مجھے ہی سمجھایا گیا ہے اس کے بعد میں نے ورزشوں میں حصہ لینا شروع کیا جس سے میری جسمانی صحت اچھی ہو گئی اور میں پہلے سے زیادہ کام کرنے کے قابل ہو گیا - ملک بھر کو پیغام صلح اور ہندو مسلم مشکلات کا صحیح حل پڑھی اور سنگنٹن کی تحریکوں نے ملک کا امن برباد کر دیا تھا۔اس سے پہلے مسلمانوں اور ہندوؤں میں محبت کی بظاہر ایک زبر دست پر پھیلی ہوئی تھی اور وہ ایک دوسرے کو بھائی بھائی کہتے تھے مگر اب یہ بھائی بھائی آپس میں لڑنے لگے تھے اور جن کو ایک دوسرے سے مل کر ملک و قوم کی ترقی و بہبود کے لئے کوشش کرنا چاہئے تھی۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے معلوم ہونے لگے۔ہندو مسلم فسادات روزانہ کے معمولی واقعات تھے۔بھلا جہاں جلوس نکالنے اذان دینے ، گاؤ کشی کرنے اور مسجد کے سامنے باجہ بجانے پر جنگ و جدل کا بازار گرم ہو جائے وہاں اتفاق کا امکان ہی کہاں باقی رہ سکتا ہے ؟ اس نازک ترین مرحلہ پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے وطن کی صورت حال سے مضطرب ہو کر میدان عمل میں آئے اور آپ نے ۱۴/ نومبر ۱۹۲۳ء کو ملک بھر کی قوموں کے نام صلح کا پیغام دیتے ہوئے قومی اور ملکی مشکلات کا صحیح حل اہل وطن کے سامنے رکھا۔یہ حل آپ نے ۱۴/ نومبر