تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 415 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 415

تاریخ احمدیت جلد ۴ 407 خلافت ثانیه کا دسواں سال ہم نے اپنا آدمی بٹھا دیا اور دوسرے مسلمان کو ووٹ دیئے۔اگر ایسی ہی رواداری سب مسلمانوں میں پائی جائے تو بہت سے فوائد کا موجب ہو سکتی ہے۔چوتھی تجویز: مسلمان مذہب سے بہت دور جا رہے ہیں۔چاہئے کہ مسلمان خود بھی مذہبی جذبات پیدا کریں اور اپنے بچوں میں بھی نہ ہی روح پیدا کریں۔پانچویں تجویز: مسلمان اگر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو تبلیغ کریں اور دوسرے لوگوں کو اسلام میں داخل کریں۔قرآن کریم نے تبلیغ دین ہر ایک مسلمان کا فرض قرار دیا ہے۔چھٹی تجویز: مسلمان امراء۔۔۔ایسی انجمنیں اور سوسائٹیاں قائم کریں جو غرباء کو کام سکھائیں اور ان کے لئے روزگار کا سامان کریں۔ساتویں تجویز: مسلمان اپنی قوم کے اپانچ لولے اور لنگڑے لوگوں کا خاص انتظام کریں اور یتیم بچوں کی تربیت اور پڑھائی کی طرف خاص توجہ دیں۔حضور نے مسلمانوں کو خود حفاظتی اقدامات کی یہ اہم تجاویز بتانے کے بعد ہندو مسلم صلح کے مندرجہ ذیل سنہری اصول بیان فرمائے۔پہلا اصول: اگر حقیقت میں صلح کی خواہش ہے تو سب فرقوں بلکہ گورنمنٹ سے بھی صلح ہونی چاہئے۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ گورنمنٹ جو کچھ کرتی ہے سب ٹھیک کرتی ہے میرے نزدیک بعض اوقات گورنمنٹ سخت غلطیاں کرتی ہے اور ایسے موقع پر خود میں نے ایسے ایسے سخت الفاظ میں گورنمنٹ کو توجہ دلائی ہے کہ جو ضروری تھے اور میں نے دیکھا ہے کہ حکومت نے بالعموم ان باتوں کو منظور کر لیا۔پس میں خوشامدیوں میں سے نہیں ہوں اور نہ یہ پسند کرتا ہوں کہ لوگ گورنمنٹ کی خوشامد کریں کیونکہ میرے نزدیک خوشامدی انسان ہی نہیں ہوتا۔حیوان ہوتا ہے۔بلکہ اس سے بھی گرا ہوا ہے۔اور میں یہ بھی نہیں سمجھتا کہ گورنمنٹ غلطیوں سے پاک ہوتی ہے۔ہاں چونکہ وہ ہمارے ملک کا حصہ ہے اس لئے ایسے رنگ میں حقوق قائم کرنے چاہئیں کہ اسے علیحدہ نہ کریں ور نہ وہ اتحاد ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔دوسرا اصول: مستقل صلح کے لئے ضروری ہے کہ مذہبی رنگ میں صلح ہو۔مگر ز ہی صلح سے یہ مراد نہیں کہ سب ایک مذہب میں شامل ہو جائیں بلکہ فقط یہ ہے کہ سب مذاہب والے ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں اور پیشواؤں کا احترام کریں۔بلاشبہ ہندوستان ہمیں جمع کر سکتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں محمد ﷺ کی ذات والا صفات سے بڑھ کر ہمارے نزدیک ہندوستان کی ہرگز پوزیشن نہیں۔رسول کریم ﷺ سے ہمیں جو تعلق ہے وہ ہندوستان سے بہت بڑھ کر ہے اگر آپ کا ادب