تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 403 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 403

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 395 خلافت ثانیه کار سواں سال بالکل محال ہے۔آج شائد میری اس بات کو تسلیم کرنے میں کسی کو تامل ہو گا۔لیکن زمانہ خود بتادے گا کہ میرا کہنا کس قدر صداقت پر مبنی ہے۔آج سے تھیں چالیس سال پیچھے ہٹ جائیے جبکہ یہ جماعت اپنی ابتدائی حالت میں تھی۔اور دیکھئے اس زمانہ میں ہندو اور مسلمان دونوں اس جماعت کو کس قدر حقیر اور بے حقیقت سمجھتے تھے۔ہندو تو ایک طرف رہے خود مسلمانوں نے ہمیشہ اس کا مذاق اڑایا اور اس پر لعنت و ملامت کے تیر برسائے اس جماعت نے اپنی ابتدائی حالت میں جن جن کاموں کے کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔آج ان میں سے اکثر انجام کو پہنچ چکے ہیں۔اس زمانہ میں جب احمدیوں نے ان کاموں کی ابتدا کی تھی ان کو پاگل سمجھا جاتا تھا اور ان کی حماقت پر ہنسی اڑائی جاتی تھی۔مگر واقعات یہ کہہ رہے ہیں کہ ان پر ہنسی اڑانے والے خود بے عقل اور احمق تھے۔اس بارے میں عیسائی مشنریوں نے نہایت عظمندی سے کام لیا۔انہوں نے اس وقت سے جب احمد یہ جماعت نے جنم ہی لیا تھا کہ اس کی طرف صرف توجہ ہی نہ کی بلکہ ہمیشہ نہایت گہری نظر سے اس کا مطالعہ کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمان اور ہندوؤں سے زیادہ امریکہ اور یورپ کے پادری احمد یہ تحریک سے زیادہ واقف ہیں ان کے پاس اس جماعت کے متعلق درجنوں کتابیں موجود ہیں۔ان کی ہوشیاری اور باخبری کا یہ عالم ہے کہ احمدیوں نے ابھی یورپ و امریکہ میں قدم رکھا ہی تھا کہ تمام پادری ان کے مقابلے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔دوسری طرف ہم ہیں کہ نصف صدی سے یہ جماعت اپنا خوفناک کام ہمارے مقدس ملک میں کر رہی ہے۔مگر ہمارا متوجہ ہوتا اور انسدادی تدابیر اختیار کرنا تو ایک طرف رہا ہم اس سے اچھی طرح واقف بھی نہیں | 1-A ہیں "۔نیز لکھا۔"احمدی جماعت کا اثر ہندوستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہے۔یورپ امریکہ افریقہ ، آسٹریلیا، عرب، ایشیا کے تمام حصے غرضیکہ دنیا کا کوئی قابل ذکر ملک نہیں ہے جہاں احمدیہ جماعت کی شاخ یا کم از کم کوئی احمدی کام نہ کر رہا ہو۔یورپ کے تمام ممالک انگلستان، فرانس، جرمنی وغیرہ میں ان کے باقاعدہ مشن موجود ہیں امریکہ میں بھی تبلیغ ہو رہی ہے۔افریقہ اور عرب کے پتے ہوئے صحراؤں ، مصر ، ایران کے زرخیز متمدن ممالک ترکستان ، شام ، افغانستان کی خوشنما وادیوں میں غرضیکہ ہر جگہ ان کی کوششیں جاری ہیں اور دن بدن ترقی کر رہی ہیں۔اگر آج ہم نے ہندوستان میں احمدیوں کا مقابلہ نہ کیا اور ان کی طرف سے غافل رہے تو کل کو ہمارے لئے ممالک اسلامیہ یورپ اور امریکہ میں شدھی کا کام کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔۔۔۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں پھر ایک بار کہتا ہوں کہ ہمیں ذرا عقل مندی سے کام لے کر اپنے طریق کار کو بدلنا چاہئے۔ہماری قیمتی طاقتیں بالکل