تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 404
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 396 خلافت ثانیہ کا دسواں سال رائیگاں جا رہی ہیں ہم ایسے حریفوں سے ابھی بالکل ناواقف ہیں۔اب آئندہ کے لئے ہمیں اس تاریکی میں نہ رہنا چاہئے اور جلد سے جلد احمدیہ جماعت کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔اگر ہم چند سال اور اس خوفناک جماعت کی طرف سے غافل رہے تو اس کے نتائج نہایت افسوسناک اور نقصان دہ ہوں گے۔آج تک احمدی جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ ان کی ذاتی کوششیں ہی تھیں۔دوسرے مسلمانوں نے کبھی بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ ہمیشہ ان کی مخالفت کی۔۔۔لیکن اب یہ حالت نہیں ہے آج کل سوائے پرانے خیال کے مولویوں کے باقی تمام مسلمان ان کے مددگار اور ان کے کام کے مداح ہیں یہ تبدیلی ایسی ہے جس میں ہمارے لئے بہت سے خطرے پوشیدہ ہیں جن سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا بند و بست نہ کرنا خود کشی کے مترادف ہو گا"۔میدان ارتداد میں جماعت احمدیہ کی عظیم الشان تبلیغی خصوصیت کا عام چه چا مجماعت احمدیہ کے مجاہدانہ کارناموں نے جہاں آریوں کو لرزہ بر اندام کر دیا۔وہاں مسلمانوں پر بھی ظاہر ہو گیا کہ اس زمانہ میں اگر دنیا کے پر وہ پر اسلام کا سچادر د ر کھنے والی اور اسلام کی حقیقی خدمت کرنے والی کوئی جماعت ہے تو وہ صرف احمد یہ جماعت ہے چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب نے (جو بعد کو مفکر احرار کے نام سے یاد کئے گئے ) تحریک شدھی کے دوران میں لکھا تھا۔مسلمان پبلک کو چاہئے کہ فتوی بازوں سے مطالبہ کریں کہ وہ غیر اقوام میں تبلیغ کر کے غیروں کو اپنا سچا ہم خیال مسلمان بنا ئیں تاکہ ان پر یہ راز کھل جائے کہ مسلمانوں کو کا فر بتانا کتنا آسان اور کافر کو مسلمان بنانا کس قدر دشوار ہے۔مگر مسلمان فتوی باز کسی کے روکے نہیں رکتے تو انہیں اجازت دی جائے کہ جہاں وہ مسلمانوں کو کافر بناتے ہیں وہاں کبھی کبھی غیر قوموں میں تبلیغ بھی کریں تاکہ ان کا مزاج اعتدال پر آجائے۔سینکٹروں نہیں بلکہ ہزاروں دینی مکاتب ہندوستان میں جاری ہیں مگر سوائے احمدی مدارس و مکاتب کے کسی اسلامی مدرسہ میں غیر اقوام میں تبلیغ و اشاعت کا جذ بہ طلباء میں پیدا نہیں کیا جاتا کس قدر حیرت ہے کہ سارے پنجاب میں سوائے احمدی جماعت کے اور کسی ایک فرقے کا تبلیغی نظام موجود نہیں۔۔۔آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا جس میں تبلیغی حس مفقود ہو چکی تھی۔سوامی دیانند کی مذہب اسلام کے متعلق بدظنی نے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا۔مگر حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہو گیا۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا ایک مختصری جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا۔اگر چہ بھی