تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 402 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 402

تاریخ احمدیت جلد ۴ 394 هانیه کا دسواں سال گئیں۔کوئی مدرسہ مسلمانوں کا نہیں رہا۔تمام گاؤں پر قادیانی قبضہ کر رہے ہیں۔صالح نگر اور ساندھن میں بھی قادیانی ہیں "۔اس معرکہ حق و آریوں کی طرف سے احمدیت کی زبر دست طاقت کا اقرار پاگل نے آریوں کو باطل جماعت احمدیہ کی زبر دست اور بے پناہ تبلیغی و تنظیمی طاقت و قوت کا پورا پورا احساس کرا دیا چنانچہ اخبار " پر تاپ " لاہور نے لکھا۔مشکل یہ ہے کہ ہندوؤں کو اپنے ہی ہم وطنوں کی ایک جماعت کی طرف سے خطرہ ہے اور وہ خطرہ اتنا عظیم ہے کہ ان کے نتیجہ کے طور پر آریہ جاتی صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے وہ خطرہ ہے تنظیم و تبلیغ کا۔مسلمانوں کی طرف سے یہ کام اس تیزی سے ہو رہا ہے کہ ہندوؤں کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ان کی تعداد سال بہ سال کم ہو رہی ہے اگر اسے کسی طرح روکا نہ گیا تو ایک وقت ایسا آسکتا ہے جبکہ آرید دھرم کا کوئی بھی نام لیوا نہ رہے "۔۔اس سے بڑھ کر ایک متعصب آریہ سماجی نے لکھا : " میں نے اسلام کے اندر رہ کر اور اسلام کے ترک کرنے کے بعد مسلمانوں کے تبلیغی نظام کا خوب اچھی طرح مطالعہ کیا۔میرے خیال میں تمام دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ٹھوس موثر اور مسلسل تبلیغی کام کرنے والی طاقت احمد یہ جماعت ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم سب سے زیادہ اس کی طرف سے غافل ہیں اور آج تک ہم نے اس خوفناک جماعت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔اگر کی ہے تو فی الحال ہم اسے سمجھ نہیں سکے اگر ہم نے اس کی طرف کبھی دیکھا بھی تو ہماری نگاہیں اس کے بیرونی خط و خال کو دیکھ کر پلٹ آئیں اور اس کے اندرونی حالات ابھی تک ہمارے لئے ایک بھید اور سر مخفی ہیں۔بلا مبالغہ احمدیہ تحریک ایک خوفناک آتش فشاں پہاڑ ہے جو بظاہر اتنا خوفناک معلوم نہیں ہو تا لیکن اس کے اندر ایک تباہ کن اور سیال آگ کھول رہی ہے جس سے بچنے کی کوشش نہ کی گئی تو کسی وقت موقعہ پا کر ہمیں بالکل جھلس دے گی۔آریہ سماج اور تحریک احمدیت کے جو تعلقات رہے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم ایک لمحہ کے لئے بھی اس کی طرف سے بالکل غافل نہ ہوتے۔خاص کر پنڈت لیکھرام جی کی شہادت تو ایک ایسا سبق تھا جس کو ہمیں بالکل نہ بھولنا چاہئے تھا۔مگر افسوس ہم نے ہمیشہ غفلت برتی اور آج تک غافل ہیں۔بظا ہر خواہ معلوم نہ ہو لیکن در حقیقت ہندوستان اور دوسرے ممالک میں شدھی کی تحریک کے لئے سب سے بڑی روک احمدیہ جماعت ہے اور اس روک کو دور کئے بغیر ہمارے لئے پوری پوری کامیابی حاصل کرنا