تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 401 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 401

تاریخ احمد بیت جلد ۴ 393 خلافت ثانیہ کا دسواں سال ہو سکے۔نہ یہ کہ ایسی صلح کی جائے جو دیر پا نہ ہو یا جس کے نتیجہ میں کسی اور جنگ کے سامان پیدا ہونے شروع ہو جائیں "۔11 ان نمائندوں کے دہلی پہنچنے پر حکیم اجمل خاں صاحب نے دوبارہ تار دیا کہ۔حضرت مرزا محمود احمد صاحب قادیان بٹالہ - مخط اور فوری توجہ کا تہ دل سے شکریہ - آپ کا مشورہ ہمارے لئے بڑی مدد کا موجب ہو گا۔اجمل خاں "۔احمدی نمائندوں نے کمیٹی کے سامنے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا یہ موقف پوری وضاحت سے پیش کیا کہ جب تک شدہ شدہ مسلمانوں میں سے ایک فرد واحد بھی باقی ہے ہم یہ مہم ہرگز نہیں چھوڑیں گے نتیجہ یہ ہوا کہ سمجھوتہ نہ ہو سکا اور شردھانند اور دوسرے کانگریسی ہندوؤں کی یہ سیاسی تدبیر جو انہوں نے کانگریس کے پلیٹ فارم پر کی تھی۔کامیاب نہ ہو سکی۔علاقہ ارتداد میں مستقل مبلغین کا تقرر گو ہندو مسلم لیڈروں کا کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔مگر غیر احمدی علماء اور آریہ پر چارک تھک ہار کر تیزی کے ساتھ واپس آنے لگے۔اس کے مقابل جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے اعلان فرمایا تھا۔احمدی مجاہدین آخر دم تک میدان عمل میں مصروف جہاد رہے چنانچہ تبلیغی نقطہ نگاہ سے یہ علاقہ آگرہ ، فرخ آباد اور مین پوری تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا جن کے الگ الگ امیر تبلیغ تمرر کئے گئے۔اور چھ چھ سات سات مبلغ ان کے ماتحت لگا دیئے گئے۔اس سلسلہ میں ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم مولوی محمد حسین صاحب قریشی افضال احمد صاحب - مولوی عبدالحی صاحب بھاگلپوری۔مولوی جلال الدین صاحب وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔جنہوں نے اس علاقہ میں لمبا عرصہ تک اسلام کا جھنڈا بلند رکھا اور خدا کے فضل سے اب بھی وہاں احمد یہ جماعت اور اس کی مساجد موجود ہیں اور ان گری ہوئی قوموں کو اٹھانے اور پختہ مسلمان بنانے کا کام جاری ہے۔تحریک شدھی کے ہنگامی دور کے بعد جماعت احمدیہ کا مستقل مزاجی سے ان علاقوں میں تبلیغی جد و جہد جاری رکھنے پر بھی مسلم پریس نے جماعت کی بہت تعریف کی۔چنانچہ اخبار اہلسنت (امرتسر) نے لکھا۔"جب فتنہ ارتداد کی ابتدا تھی تو بہت سی انجمنیں وہاں کام کرنے کے لئے پہنچ گئی تھیں۔مگر تھوڑے ہی دنوں میں وہ انجمنیں چلتی پھرتی نظر آنے لگیں۔باوجودیکہ ان کے مقابل میں قادیانی بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔سورج پور میں قادیانیوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔محمد اسمعیل کا آگرہ سے مخط آیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ شدھی کا زور بہت کم ہے۔لیکن قادیانیوں کا زور زیادہ ہے تمام انجمنیں کنارہ کشی کر