تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 398 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 398

تاریخ احمدیت جلد ۴ 390 خلافت ثانید دسواں سال نهایت تنگ مگر جماعت احمدیہ نے اتمام حجت کے لئے مباحثہ منظور کر لیا۔جماعت بڑی بے تابی سے اس وقت کے انتظار میں تھی کہ کب "سوامی جی " میدان مباحثہ قبول کرتے ہیں اور ہندو دھرم کے مقابل اسلام اور ویدوں کے مقابل قرآن مجید کی فتح کے نقارے بجتے ہیں۔لیکن شردھانند تو اس مناظرے سے اپنا پیچھا چھڑانے کی فکر میں تھے اور کسی بہانہ کی تلاش میں تھے۔دہلی کی اتحاد کانفرنس حسن اتفاق سے ان ہی دنوں دہلی میں آل انڈیا نیشنل کانگرس نے ایک خاص اجلاس شدھی اور سنگھٹن کے مسئلہ پر غور کرنے کے لئے بلا رکھا تھا اس اجلاس میں جناب ابو الکلام صاحب آزاد صدر کانگریس نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ موجودہ ملکی حالت یہ ہے کہ سوراج اور خلافت کی جگہ شدھی سنگھٹن کی تحریک اور اس کی مدافعت نے لے لی ہے ہمیں متحدہ قومیت کی ضرورت ہے میں تمام ہندو مسلمانوں سے وطن کے نام سے اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ کے لئے ان تمام سرگرمیوں کو بند کر دیں جو شدھی تحریک اور اس کی مدافعت وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔خطبہ صدارت کے بعد ہندو مسلم لیڈروں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی اور جناب آزاد کی تجویز پر ایک اتحاد کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔جس کی غرض کانگریس کے سامنے اپنی سفارشات پیش کرنا تھا یہ اتحاد کمیٹی حسب ذیل ممبروں پر مشتمل تھی۔پنڈت شردھانند ، پنڈت مالویہ جی، جناب ابو الکلام صاحب آزاد، ڈاکٹر انصاری ، ڈاکٹر کچلو ، حکیم اجمل خاں ، مولوی شبیر حسین ، مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی پنڈت موتی لال نہرو ی۔آرداس ، مسٹر کینڈا مسز سروجنی نائیڈو اور ڈاکٹر ستیہ پال - اتحاد کمیٹی کے ممبر ہونے کی وجہ سے شردھانند جی کو مباحثہ سے انکار کرنے کا ایک موقعہ ہاتھ آ گیا۔اور اگر چہ کمیٹی کی تجاویز میں مباحثہ کے اعلان کی واپسی کا چنداں ذکر نہیں تھا۔مگر انہوں نے فورا اعلان شائع کر دیا کہ۔کمیٹی صالح کے بن جانے سے ہر دو مذاہب کے درمیان پھر سے اتحاد کی بنیاد قائم ہو گئی۔اب میں اس بنی ہوئی فضا کے راستے کو مکدر کرنا نہیں چاہتا اس لئے مباحثہ کو اپنی طرف سے بند کرتا ہوں"۔اس اعلان پر دنیا نے اچھی طرح محسوس کر لیا کہ آریوں کے مشہور لیڈر اور شدھی کے بانی نے احمدیوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی شکست پر اپنے ہاتھوں دستخط کر دیئے ہیں۔یہ بات اتنی واضح اور کھلی تھی کہ ہندو اخبار " پر تاپ " لاہور نے لکھا۔ممکن ہے فساد بھی ہو جاتا لیکن جو بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ ہے کہ یہ حالات تو پہلے بھی موجود تھے جبکہ سوامی جی نے مناظرہ کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد تو کوئی اور فساد بھی نہیں ہوا۔اس کے