تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 399
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 391 خلافت ثانیه دسواں سال بعد کونسی ایسی بات ہوئی ہے جس نے سوامی جی کو مناظرہ کے بند کرنے پر مائل کیا ہے۔۔۔۔۔۔انہوں نے ده خود ہی مناظرہ کا اعلان کیا۔خود ہی اسے منسوخ کر دیا " مناظرہ کی منسوخی سے آریہ سماج کو ایسی ضرب کاری لگی کہ چند دن بعد شردهانند تحریک شد می سے ہی دستبردار ہو گئے اور اپنی علیحدگی کی وجہ یہ بیان کی کہ "میری صحت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ شدھی جیسے اہم اور ضروری کام کو اسی شوق سے کئے جاؤں میرا دل ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ رہے گا"۔اتحاد کمیٹی میں نمائندگان جماعت کی شمولیت اب اتحاد کمیٹی کی طرف آئیے۔جس کی بناء پر شردھا نند جی نے پہلے میدان مناظرہ سے گریز اختیار کیا اور پھر شد ھی سے دستکش ہو گئے۔ہم او پر یہ ذکر کر آئے ہیں کہ جناب ابو الکلام صاحب آزاد صدر آل انڈیا نیشنل کانگرس نے ہندو مسلمان لیڈروں کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ شدھی کی تحریک بھی اور اس کی مدافعت کا کام بھی بالکل بند کر دیا جائے۔چنانچہ اتحاد کمیٹی کے ارکان سوامی شردھانند سے یہ سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو گئے کہ بیرونی آریہ اپدیشک بھی تحریک شدھی سے الگ ہو جائیں اور دوسری جگہ سے آنے والے مسلمان بھی میدان ارتداد سے ہٹ جائیں اور خود ملکان کو موقعہ دیا جائے کہ وہ آپس میں کوئی فیصلہ کر ہیں۔یہ اطلاع قادیان میں پہنچی تو حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم سے ناظر صیغہ انسدادار تداد ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے) نے حکیم اجمل خاں صاحب ڈاکٹر انصاری صاحب اور ڈاکٹر کچلو کے نام (جو اتحاد کمیٹی کے ممبر تھے ) اس سمجھوتہ کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے مفصل تار دیا۔کہ ”ہمارے نزدیک یہ سمجھو تہ سخت خلاف دانش اور خلاف مصالح اسلامیہ ہے۔آریہ لوگ ایک عرصہ سے وہاں کام کر رہے ہیں اور کئی ہزار آدمی کو آریہ بنا چکے ہیں۔اب پیچھے ہٹ جانے کے یہ معنی ہیں کہ ان لوگوں کو آریہ رہنے دیا جاوے۔جو قوم پہلے قبضہ کر چکی ہے اس کے لئے آئندہ جنگ بند کر دینا کوئی حرج نہیں ہے۔نقصان اس کا ہے جس نے اپنے اہل مذہب کو واپس لانا ہے۔۔۔۔۔۔۔پس ہم بڑے زور سے اس سمجھوتہ کے خلاف پروٹسٹ کرتے ہیں اس وقت تک کہ اس علاقہ کے لوگ واپس اسلام میں آجائیں ہم صبر نہیں کریں گے اور اسلام کی عزت کے مقابلے میں کسی سمجھوتہ کی پروا نہیں کریں گے۔ہماری جماعت امید رکھتی ہے کہ آپ اس وقت اسلام کی طرف سے جو ذمہ داری آپ پر عائد ہے۔اس کو محسوس کرتے ہوئے کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے جو اسلام کی تبلیغی روح