تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 397
تاریخ ا احمدیت۔جلد ۴ 389 خلافت نامیه و مواں سال AS منظوری بذریعه تار بھیج دی اور ساتھ ہی مسلمان اور ہندو اخبارات کو بھی اس کی اطلاع کر دی۔انصاف و اخلاق کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے فریق مخالف کی اطلاع کا جواب دیتے مگر شردھانند صاحب نے اس تار کا تو کوئی جواب نہ دیا البتہ ”ہندوستان کے سب مسلمانوں کو کھلا چیلنج" کے نام سے ایک نیا اعلان دے دیا۔جس میں پبلک پر یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ گویا خود مسلمانوں نے مجھے دعوت مباحثہ دی ہے۔تحریر کیا کہ :- کچھ عرصہ سے مسلمان اصحاب نے میری معرفت مباحثہ کرنا زیادہ تر مناسب سمجھا ہے اس لئے ان کی خواہش کو پورا کرنے کی غرض سے سب کا فردا فردا جواب نہ دیتے ہوئے ہندوستان کے جملہ مسلمان بھائیوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ آریہ سماج ہر وقت مباحثہ کے لئے تیار ہے۔۹/ ستمبر ۱۹۲۳ء تک اسلام کے ہر فرقہ کی طرف سے (جو مباحثہ کرنا چاہیں) میرے پاس درخواست آجانی چاہیئے "۔اس اعلان میں انہوں نے ایک تو مسلمانوں کی درخواست " کے لئے ایسی قلیل مدت مقرر کی جو کسی لحاظ سے معقول نہیں تھی کیونکہ اس دوران میں ہر جگہ سے جواب کا بروقت پہنچنا بالکل ناممکن تھا۔دوسرے ایسی بعض شرائط بھی لگا دیں جو دوسرا فریق منظور ہی نہ کر سکے۔مثلاً مناظرہ کے وقت پریذیڈنٹ آریہ سماج کی طرف سے ہو گا۔تیسرے اس تحکمانہ لہجہ میں اعلان لکھا کہ گویا آپ مہاراجہ ہیں اور اپنی رعایا کے نام احکام جاری فرما ر ہے ہیں لیکن اس کے باوجو د احمدی جماعت نے جواب دیا کہ ہمیں ہر شرط منظور ہے۔میدان میں نکلیں۔" چنانچہ ناظر صاحب تالیف و اشاعت قادیان نے شردھانند جی کو للکارتے اور پبلک پر ان کی شکست خوردہ ذہنیت کو آشکار کرتے ہوئے لکھا :- " ہم سب شرائط منظور کرتے ہیں جو آپ نے تجویز کی لیکن ہم تمام پبلک خصوصاً انصاف پسندوں کے سامنے اعلان کرتے ہیں کہ یہ ایک نہایت ہی غیر منصفانہ طریق ہے کہ ایک فریق اپنے ہی قبضہ میں سب اختیارات رکھتا ہے۔اگر آریہ سماج اس طرح مجبور کر کے اپنی پیش کردہ شرائط کو منظور کرانا چاہتی ہے تو یہ اس کا رویہ خود اقرار شکست ہے بحث ایک جنگ ہے اور جب کہ شکست خوردہ دشمن کا بھی یہ حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو فاتح کی پیش کردہ شرائط کے مقابلہ میں پیش کرے۔تو یہ بات نہایت خلاف عقل ہے کہ ایک فریق بحث سے بھی پہلے اپنی طرف سے سب پیش کردہ شرائط کو بلا چون و چرا مانے پر زور دے۔میں امید کرتا ہوں کہ آریہ سماج کی طرف سے جلد سے جلد مجھے اس امر کی اطلاع دی جائے گی کہ ان کو ہمارے ساتھ مباحثہ کرنا منظور ہے یا نہیں"۔اب شردھانند صاحب کے لئے گریز کی کوئی راہ باقی نہ تھی۔شرائط اگر چہ یکطرفہ تھیں اور وقت