تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 367
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 359 خلافت ماسید کار سوال سال حق سے اچھی طرح وابستہ کرے۔چنانچہ جو لوگ اس کام کے لئے تیار ہوں وہ بہت جلد اپنی درخواستیں بھیج کر جانے کے لئے تیار رہیں۔حضور کا یہ اعلان سنتے ہی سینکڑوں مخلصین نے درخواستیں دیں۔میں نے بھی والد صاحب سے اجازت لے کر درخواست دے دی۔میری اس درخواست کا سن کر والدہ صاحبہ بہت گھبرائیں کیونکہ کسی عورت نے بتا دیا تھا کہ جہاں یہ لوگ جائیں گے وہاں ہندوؤں سے جھگڑے ہوں گے اور وہاں ہندو کثرت سے ہیں۔نا معلوم یہ کہاں مارے جائیں۔عورتوں کے دل کمزور ہوتے ہیں۔اسی لئے آپ بھی گھبرا گئیں۔میں نے آپ کو بڑی محبت سے سمجھایا کہ خدا نے اس جگہ سے ہمیں بچائے رکھا جہاں ہم گورنمنٹ کی نوکری میں صرف جنگ کرنے کے لئے ہی گئے تھے اور یہ تو خداتعالی کا کام ہے وہ خود ہی ہماری حفاظت کرے گا۔آپ بالکل فکر نہ کریں اور ہر نماز میں دوسری دعاؤں کے ساتھ دین حق کی فتح کی دعا بھی کرنا شروع کر دیں۔قادیان سے ۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء کو پہلا وفد برائے سروے حضور نے روانہ فرمایا۔حضور اور دیگر احباب کثرت سے ڈلہ کے موڑ تک وفد کو روانہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں ایک کنویں کے نزدیک تمام احباب اکٹھے ہو گئے۔حضور نے مختلف نصیحتیں کرنے کے بعد ایک لمبی دعا کروا کر وفد کو روانہ کیا اور اس وقت تک وہیں کھڑے رہے جب تک وفد کے احباب جاتے ہوئے دکھائی دیتے رہے۔جب یہ وفد آنکھوں سے اوجھل ہوا تو حضور نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ہم بھی آپ کے ہمراہ واپس آگئے۔اس وقت میرے دل میں بہت جوش اٹھا کہ کاش میں بھی اس جانے والے وفد کے ہمراہ ہوتا۔واپس قادیان اگر غمگین دل کے ساتھ دوبارہ کام شروع کر دیا۔بالآخر ۲۴ مارچ ۱۹۲۳ء کو دوسرا وفد جانے کی افواہ سنی - بڑی خوشی ہوئی کہ اب میرا نام بھی اس وفد میں ضرور آجائے گا۔میں نے فہرست میں اپنے نام کی تسلی کرنے کے لئے کوشش کی تو جواب ملا کہ آپ تسلی سے اپنا کام جاری رکھیں۔جب آپ کا نام آئے گا تو روانگی سے ایک دن قبل آپ کو اطلاع کر دی جائے گی۔۲۳ مارچ کا دن بھی آگیا مگر شام تک مجھے کوئی اطلاع نہ ملی اور اگلے دن صبح یہ اعلان ہو گیا کہ آج بعد دو پر دو سرا وفد روانہ ہو گا۔چنانچہ پہلے وفد کی روانگی کی طرح اب بھی ہم حضور کے ہمراہ اسی جگہ تک گئے اور نصائح کے بعد دعا کے ساتھ وفد کو روانہ کیا۔میرا نام وفد میں نہ آنے کی وجہ سے سخت اضطراب کی حالت میں رہا اور پھر تنگ آکر میں نے حضور کی خدمت میں ایک درخواست لکھی کہ اگر حضور نے مجھے تیرے وفد میں بھی نہ بھیجا تو میں بیمار ہو جاؤں گا۔آخر اللہ تعالیٰ نے میری التجا سن لی اور مجھے اطلاع ملی کہ کل مورخہ ۱۴اپریل ۱۹۲۳ء کو تیسرے وفد کے ہمراہ جانے کے لئے تیار رہیں اور کل دس بجے اپنا مختصر سامان کھانا اور کپڑے وغیرہ ہمراہ لیکر دفتر تشریف لے آئیں۔یہ سن کر میری خوشی کی کوئی انتہانہ رہی۔اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا اور اگلے دن مع سامان اور ساٹھ روپے نقد لے کر