تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 368
تاریخ احمدیت جلد ۴ 360 دفتر پہنچ گیا۔وہاں سے سرٹیفکیٹ ملا کہ حامل سرٹیفکیٹ جماعت احمدیہ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا ہو نا فائڈ مشنری ہے۔اسے ہر جگہ جانا پڑے گا اور ضرورت کے مطابق لباس بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔اس لئے گورنمنٹ اسے مشتبہ نظر سے نہ دیکھے وغیرہ وغیرہ۔مورخه ۴- اپریل ۱۹۲۳ء کو دفتر سے فارغ ہونے کے بعد دفد کے سب اصحاب جو تعداد میں پچیس کے قریب تھے اکٹھے ہوئے اور ہمیں حضور اور دیگر افراد جماعت کثرت سے ڈلہ کے موڑ تک الوادع کرنے گئے۔حضور نے حسب معمول نصائح فرمائیں اور اعلان کیا کہ جس کو نئی بستی میں داخل ہونے کی دعا یاد ہے وہ گاڑی میں ہی سب احباب کو حفظ کرا دے مجھے اور عبدالرحیم صاحب کو یہ دعایاد تھی چنانچہ ہم نے سب کو یاد کروانے کا اقرار کیا۔حضور نے بعد دعا و معانقہ ہمیں رخصت کیا۔ہم پیدل ہی جارہے تھے اور بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ لیتے تھے۔حضور بھی اس وقت تک کھڑے ہمیں دیکھتے رہے جب تک ہم انہیں دکھائی دیتے رہے۔ہم تیزی کے ساتھ چلتے رہے۔عصر کی نماز قصر کر کے ہم نے نہر کے کنارہ پر نماز باجماعت ادا کی اور مغرب کے بعد بٹالہ پہنچے۔رات کو بٹالہ سے بذریعہ گاڑی روانہ ہوئے اور اگلے دن بعد دو پر آگرہ پہنچے۔وہاں چوہدری فتح محمد صاحب سیال امیر تھے۔انہوں نے ہمارے لئے حلقوں کا انتخاب کیا۔جو لوگ مجھ سے واقف تھے وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔آخر بابو جمال الدین صاحب جو ایڈیٹر نور محمد یوسف صاحب کے سر تھے انہوں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ میں عمر رسیدہ ہوں اس لئے آپ مولوی محمد حسین کو میرے ہمراہ کر دیں۔چوہدری صاحب نے منظور کر لیا۔ہمیں ضلع ایٹہ ملا اور عبد الرحمان صاحب قادیانی ہمیں ہمارے حلقہ میں پہنچانے کے لئے ہمراہ چل دیئے۔کاس گنج پہنچنے کے بعد بذریعہ لاری ایٹہ پہنچے۔چونکہ ہم رات کے وقت اللہ پہنچے تھے اس لئے رہائش کے لئے سرائے تلاش کرنے لگے۔ایک آدمی سے بھرائے کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ آپ آباد سرائے میں جائیں گے یا غیر آباد میں ؟ ہم نے کہا آباد سرائے میں تو وہ بیچارہ ہمیں راستہ بتا کر کہنے لگا کہ وہاں روشنی ہو رہی ہو گی اور آپ آسانی سے وہاں پہنچ جائیں گے۔جب ہم چند قدم ہی آگے بڑھے تو مجھے خیال آیا کہ اس آباد اور غیر آباد سرائے کے بارے میں معلوم کرنا چاہئے۔چنانچہ واپس آکر دریافت کی تو معلوم ہوا کہ آباد سرائے میں ہر قسم کی بازاری عورت مل جائے گی اور غیر آباد میں نہیں ملے گی۔میں نے لاحول پڑھا اور ہنستے بنتے عبدالرحمان صاحب کو آواز دی کہ ذرا ٹھر جائیں اور انہیں سارا حال سنایا۔وہ بھی لاحول پڑھ کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ شکر ہے کہ آپ کو یہ بات بروقت سوجھ گئی ورنہ صبح کو ہماری بڑی بدنامی ہوتی۔غرضیکہ ہم غیر آباد سرائے میں چلے گئے۔صبح اٹھ کر نماز وغیرہ پڑھی اور بعد دعا بذریعہ یکہ ڈھمری روانہ