تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 366 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 366

یخ احمدیت جلد ۴ 358 خلافت ثانیه کا دسواں سال دستہ فارغ ہو تا تھا تو اس کی جگہ دوسرادند پہنچ جاتا تھا۔اگلے وفدوں میں آنے والے بعض اصحاب کے نام بالترتیب یہ ہیں۔چوہدری غلام احمد صاحب کر یام۔شیخ فضل احمد صاحب ہیڈ کلرک راولپنڈی (حال ربوہ ) محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب ( سابق حج ہائی کورٹ مغربی پاکستان)، جناب میاں عطاء اللہ صاحب (بی اے ایل ایل بی لاہور سابق امیر جماعت راولپنڈی میتیم کینیڈا، چوہدری احمد دین صاحب (وکیل گجرات)، میاں فضل کریم صاحب بی۔ائے ( مرزا) عبد الحق صاحب لاہور (حال امیر صوبائی و صدر نگران بورڈ) ، شیخ محمد احمد صاحب پلیڈر کپور تھلہ ، بابو غلام رسول صاحب ریڈر سیشن کورٹ پشاور سید فضل الرحمن صاحب فیضی کمرشل ہاؤس منصوری، حضرت میر مهدی حسین صاحب، حضرت مولوی حکیم قطب الدین صاحب قادیان حافظ ملک محمد صاحب پٹیالوی ، حضرت منشی فرزند علی خان صاحب ملک عزیز محمد صاحب پلیڈر ڈیرہ غازی خان ، حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب سنوری حضرت مولوی محمد حسین صاحب کے حضرت مولوی محمد حسین صاحب وہ خوش نصیب نهایت ایمان افروز چشم دید اور بزرگ ہیں جنہیں پہلی بار ۴۔اپریل ۱۹۲۳ء کو خود نوشت حالات مجاہدین کے تیسرے وفد میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی بلکہ بعد ازاں کچھ عرصہ مربی ملکانہ کی حیثیت سے شاندار خدمات کی توفیق ملی آپ اپنی کتاب ” میری یا میں " میں تحریر فرماتے ہیں: " شردھانند آریہ نے آگرہ سے غالبا یہ اشتہار دیا کہ اگر آریہ سماج چار لاکھ روپیہ اکٹھا کر کے مجھے بھیج دیں تو میں ساڑھے چار لاکھ ملکانہ مرد و زن بچوں کو آریہ بنا سکتا ہوں۔جب یہ اشتہار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں پہنچا تو حضور کو سخت قلق ہوا اور آپ نے وہ اشتہار خطبہ جمعہ میں پڑھ کر سنایا اور اعلان کیا کہ ہماری جماعت اب میدان میں نکلے اور تین ماہ خدا تعالی کی خاطر وقف کرے اور اپنے نی کرایہ اور کھانے کے بندوبست پر یوپی کے علاقہ جہاں بھی اس کا تعین کیا جائے رہ کر ان لوگوں کو دین