تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 365
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 357 خلافت ماشیہ کا دسواں سال اور دو سرے متعدد مجاہدین قائم گنج علی گڑھ و قنوج برون ، چھٹر مئو محمد آباد اور منگھوالی میں مصروف جہاد تھے۔ضلع ایٹہ کے قصبات و مواضع (دھو مری ، بھوپت پور اور کاس گنج میں مولوی عبد الخالق صاحب اور مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی فاضل وغیرہ نے مورچے سنبھالے۔ریاست بھرت پور ضلع علی گڑھ ، ضلع مظفر گڑھ اور ضلع اٹاوہ میں بالترتیب مولوی عبد الصمد صاحب پٹیالوی - شیخ ابراہیم علی صاحب منشی عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی اور ہادی علی خان صاحب اور ان کے ساتھ دوسرے مجاہدین کا تقرر ہوا۔۴/ اپریل ۱۹۲۳ء کو قادیان سے مجاہدین کا تیسرا وفد بھی جو بائیس افراد پر مشتمل تھا راتوں رات ہدایات لے کرے / اپریل کو میدان عمل میں پہنچ گیا۔اس وفد میں دوسرے احباب کے علاوہ حضرت مولوی محمد حسین صاحب، حضرت چوہدری برکت علی صاحب گڑھ شنکر ، حضرت مولوی حکیم غلام محمد صاحب امرتسری ، قریشی محمد حنیف صاحب میر پوری اور عبد اللہ خانصاحب (خلف حضرت خان صاحب ذو الفقار علی صاحب بھی شامل تھے۔اس وفد کی آمد پر زور شور سے تبلیغی جنگ لڑی جانے لگی۔اسی دوران میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے افسر صیغہ انسداد ارتداد ملکانہ حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے ساتھ آگرہ تشریف لے گئے E اور بچشم خود اصل حالات کا مشاہدہ کر کے اور مبلغین کو ضروری اور مناسب ہدایات دے کر ۲۳/ اپریل ۱۹۲۳ء کو واپس تشریف لائے۔آپ کے تاثرات یہ تھے کہ یہ ایک عظیم الشان جنگ تھی۔جس کا محاذ قریباً ایک سو میل کی وسعت پر پھیلا ہوا تھا اور اس وسیع محاذ پر اسلام اور کفر کی فوجیں ایک دو سرے کے مقابل پر تخت یا تختہ کے عزم کے ساتھ ڈیرہ جمائے پڑی تھیں "۔" ۵۰ آگرہ متھرا کے اضلاع اور ریاست بھرت پور میں شدھی کا حملہ بہت سخت تھا۔مگر امیر دند المجاہدین نے دور اندیشی کی کہ جن علاقوں میں آریہ ابھی پہنچے نہیں تھے یا ان کا زور کم تھا وہاں مجاہدین کو پیش قدمی کا حکم دے کر قبضہ کر لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے گاؤں ارتداد سے بچ گئے۔۱۶ / اپریل ۱۹۲۳ء کو قادیان سے انیس مجاہدین کا چوتھا وفد جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی امارت میں روانہ ہوا جو حضرت شیخ صاحب موصوف حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی ، مرزا مہتاب بیگ صاحب مولوی محمد اسماعیل صاحب (برادر اکبر حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری) اور حضرت منشی قاسم علی خاں صاحب رامپوری وغیرہ اصحاب پر مشتمل تھا - ۱۸/ اپریل ۱۹۲۳ء کو آگرہ پہنچا۔اس وفد کے پہنچنے پر میدان جہاد میں کام کرنے والوں کی مجموعی تعداد سو کے قریب ہو گئی۔اس کے بعد ایسا انتظام کیا گیا کہ بیک وقت ایک ایک سو آنریری مبلغ اس علاقہ میں کام کرتے تھے ایک