تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 342 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 342

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 334 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال جماعت کے مخیر بزرگوں نے بالخصوص اس میں اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ لیا۔جن میں سر فہرست حضرت نواب محمد علی خان صاحب تھے جنہوں نے ایک ہزار روپیہ اور جن کی حرم حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے دو سو روپیہ چندہ دیا۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب جنرل اوصاف علی خاں صاحب نامجه ، میر مرید احمد صاحب خیر پور سندھ، شیخ محمد حسین صاحب کلکتہ اور حضرت سیٹھ عبد اللہ بھائی نے پانچ پانچ سو کی رقمیں پیش کیں۔ڈاکٹر فضل کریم صاحب کابل - حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بالترتیب چار سو تیرہ رو پہیہ۔تین سو اور ڈھائی سو روپیہ چندہ دیا۔ان کے علاوہ باب فضل احمد صاحب راولپنڈی ، خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب، چوہدری عبدالله صاحب، چوہدری نذیر احمد صاحب طالب ،پوری شیخ مشتاق حسین صاحب گوجرانوالہ اور منشی محمد دین صاحب کھاریاں نے بقدر طاقت ڈیڑھ سو سے سوا دو سو روپیہ چندہ پیش کیا۔سونسو رو پیہ دینے والے تو متعدد اصحاب تھے۔چندہ میں شرکت کے لئے ابتداء یہ شرط تھی۔کہ کم از کم ایک سو روپیہ چندہ دینے والے لوگ آگئے آئیں۔لیکن بعد کو غریب احمدیوں کی درخواست پر حضور نے یہ شرط اڑا دی اور غریبوں کو بھی اس ثواب میں حصہ لینے کا موقعہ میسر آگیا۔چندے کے علاوہ احمدی احباب نے مجاہدین کے لئے سائیکل دیے خصوصا لاہور کی جماعت نے ڈاکٹر محمد منیر صاحب آف امر تسر نے دھوپ سے بچانے والے پروٹیکٹر دیئے۔بعض نے ستو کی بوریاں ڈاکٹرمحمد ستو بھیج دیں عید الاضحیہ کا موقعہ آیا تو ہزاروں روپے میدان ارتداد میں ملکانہ قوم کے لئے جانور ذبح کرنے کے لئے بھجوا دیئے۔بعض غریبوں نے جن کے پاس کچھ نقد اثاثہ نہ تھا۔اپنا مکان یا زمین یا جانور بیچ کر اس میں حصہ لیا۔کہتے ہیں کہ مشہور پنجابی شاعر ڈاکٹر منظور احمد صاحب بھیروی نے اپنی بھینس بیچ ڈالی اور میدان ارتداد میں جاپہنچے۔بھینس اگر چہ خسارے پر بکی۔مگر ڈاکٹر نے اس گھاٹے کے سودے پر بھی خوشی منائی۔مردوں کے علاوہ احمدی عورتوں نے بھی ایثار و قربانی کا ثبوت دیا۔چنانچہ لجنہ اماءاللہ نے ہمیں بڑے دوپٹے ان ملکانہ عورتوں کے لئے بھیجے جو ارتداد کے وقت اسلام پر ثابت قدم رہیں۔حضرت اقدس کی صاحبزادی امتہ القیوم نے جن کی عمر اس وقت چھ سال کی ہوگی۔اپنا ایک چھوٹا دوپٹہ دیا اور کہا کہ یہ کسی چھوٹی ملکائی کو دیا جائے۔اعد انتظام انسداد فتنه ارتداد سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے اس قواعد مرحلہ پر اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل ہیں قواعد مقرر