تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 341
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 333 " جماعت احمدیہ کے جوش و ایثار کو دیکھتے ہوئے ان کی طرف سے پچاس ہزار بلکہ اس سے زیادہ روپیہ اس غرض یعنی انسدادار تداد کے لئے فراہم ہو سکتے کا قریب قریب یقین و اعتماد ہے۔لیکن افسوس ہے کہ دیگر مسلمانوں سے ساڑھے انیس لاکھ تو کجا ایک لاکھ روپیہ بھی حالات موجودہ میں چند ہفتہ کے اندر جمع ہو جانے کی قومی تو کیا معمولی امید بھی ان طریقوں سے نہیں باندھ سکتے “۔(" ہمدم ۱۸ / مارچ ۱۹۲۳ء بحوالہ " جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه ۴۳) اسی طرح اخبار "مشرق " نے لکھا۔"جماعت احمدیہ نے خصوصیت کے ساتھ آریہ خیالات پر بہت بڑی ضرب لگائی ہے اور جماعت احمدیہ جس ایثار اور درد سے تبلیغ و اشاعت اسلام کی کوشش کرتی ہے وہ اس زمانہ میں دوسری جماعتوں میں نظر نہیں آتی۔( " مشرق " ۱۵/ مارچ ۱۹۲۳ء بحوالہ ”جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات" صفحه ۴۳) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده احمدیہ جماعت کی طرف سے والہانہ رنگ میں لبیک اللہ تعالٰی نے کے اور ۹ / مارچ ۱۹۲۳ء کو جماعت سے جس عظیم الشان جانی ومالی قربانی کا مطالبہ فرمایا اس پر جماعت نے انتہائی والہانہ رنگ میں لبیک کہا اور ڈیڑھ ہزار احمدیوں نے اپنی آنریری خدمات حضور کی خدمت میں پیش کر دیں۔اس قربانی کے لئے آگے آنے والے ملازم رؤسا، وکلاء، تاجر، زمیندار صناع ، پیشه در ، مزدور استاد طالبعلم ، انگریزی خواں عربی داں ، بوڑھے اور جو ان غرض کہ ہر طبقہ کے لوگ تھے۔حتی کہ مستورات اور بچوں تک نے اس جہاد کے لئے اپنا نام پیش کیا۔چنانچہ مجنہ اماء اللہ نے حضور کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ ہمیں راہ نمائی فرمائی جائے کہ ہم اس تبلیغی جہاد میں کیا خدمت سرانجام دے سکتی ہیں؟ خواتین نے ملکانہ عورتوں میں تبلیغ کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔اس موقعہ پر احمدی بچوں میں بھی اشاعت اسلام کا جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا۔چنانچہ مرزا منور احمد صاحب جو اس وقت ۵ سال کے تھے ملکا نہ علاقوں میں جانے کے لئے تیار ہو گئے۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے فرزند محمد احمد صاحب نے جن کی عمر اس وقت بارہ سال ہو گی اپنی والدہ ماجدہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو لکھا کہ تبلیغ اسلام کرنا بڑوں کا ہی نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔اس لئے جب آپ تبلیغ کے لئے جائیں تو مجھے بھی لے چلیں۔اور اگر آپ نہ جائیں تو مجھے ضرور بھیج دیں۔جہاں تک انسداد ارتداد کے لئے پچاس ہزار روپیہ چندہ کا تعلق تھا یہ بہت جلد جمع ہو گیا۔اور