تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 343
-6 تاریخ احمد بیت - جلد ۴ فرمائے۔۔9 -1° 335 خلافت ثانیہ کا دسواں سال اس انتظام کو با قاعدہ چلانے کے لئے ایک افسر ہو گا جو سب کام کی نگرانی کرے گا۔یہ افسر اپنے کام کی بہتری کے لئے اپنے کام کے کئی حلقے تجویز کرے گا۔جن میں سے ہر ایک حلقہ کا ایک نگران ہو گا۔ہر ایک حلقہ میں جس قدر لوگ کام کر رہے ہوں گے وہ حلقہ افسر کے ماتحت ہوں گے اور افسر کو چاہئے کہ ایک وقت مقررہ پر ان سے رپورٹ طلب کرے یعنی ان کو مقررہ عرصہ کے بعد اپنے کام کی رپورٹ کرنے کی ہدایت کرے اور اگر کسی کی رپورٹ نہ پہنچے تو اس کی رپورٹ طلب کرے ، کارکنان کو چاہئے کہ علاوہ مقررہ رپورٹ کے ہراہم بات کی اس کو رپورٹ کریں۔۔حلقہ کے افسر کا فرض ہوگا کہ ایک وقت مقررہ پر جس کی تعیین افسر اعلیٰ کرے گا افسر اعلیٰ کو اپنے کام کی رپورٹ دیتا رہے۔اور درمیان میں بھی جب کوئی اہم امر ہو اس کی رپورٹ کرتا رہے۔افسر اعلیٰ کا فرض ہو گا کہ وہ ہر روز اپنے تمام صیغہ کی رپورٹ جس میں اہم امور کو خاص طور پر پیش کیا جائے میرے پاس بھیجتا رہے۔افسر اعلیٰ کا فرض ہو گا کہ وہ وقتا فوقتا خود دورہ کر کے تمام حلقہ کے افسروں اور کارکنوں کے کام کو دیکھتار ہے اور جب وہ دورہ پر جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے ایک ہو شیار نائب کو اپنا قائم مقام تو مرکز میں بھی بنا جائے۔افسر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ اس امر کا کوئی مناسب انتظام کرے کہ صدر اور حلقوں کے مرکزوں میں ان لوگوں کے کھانے کے متعلق مناسب انتظام رہے جو بطور مہمان کے آدمیں یا جن کو کام کی مدد کے لئے بلوایا جائے۔لیکن نہایت درجہ کی کفایت شعاری کو مد نظر ر کھا جائے کیونکہ تھوڑی تھوڑی بے احتیاطی سے بڑے بڑے نقصانات پہنچ جاتے ہیں۔حلقہ کے افسروں کو بھی چاہئے کہ دورہ کر کے اپنے ماتحتوں کے کام کو دیکھتے رہیں اور ان کو مناسب ہدایتیں دیتے رہیں۔صدر مقام میں ایک مکمل ذخیرہ ان کتب اور اخبارات و رسائل کا رہنا چاہئے جو آریوں کے خلاف کام کرنے کے لئے ضروری ہے۔صدر مقام میں ایک واقف آریہ مذہب اور ہندی کا رہنا چاہئے جو نو آمدوں کو ہندی کے الفاظ سکھائے اور حوالہ نکال نکال کر ان کو دے اور ایسی باتیں آریہ لٹریچر سے نکالتا ر ہے جس سے دوسری اقوام کو وہ اپنی اصل شکل میں نظر آسکیں۔