تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 336 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 336

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 328 خلافت ثانیہ کا دسواں سال ہیں کہ اس تجویز پر عمل کا وقت آیا ہی تھا کہ مولانا بیمار اور پراگندہ خاطر ہو کر مولوی عبد السلام صاحب اور سیرت کو لے کر بمبئی روانہ ہو گئے اور دو چار ماہ کے غور و فکر کے بعد جولائی ۱۹۱۲ء کو ندوہ سے مستعفی ہو کر سبکدوش ہو گئے اور کام کی ساری تجویز میں درہم برہم ہو کر رہ گئیں۔انا للہ وانا اليه راجعون"۔مختصریه که علامہ شبلی اور ان کے ساتھی برسوں سے ارتداد کے مقابلہ کی جو تجویز کر رہے تھے وہ محض خواب و خیال بن چکی تھی اور ان کے علاوہ دوسرے علماء کو اپنے فرضی مشاغل سے فرصت نہ تھی نتیجہ یہ ہوا کہ شدھی کی آگ ۱۹۲۳ء کے آغاز میں پوری شدت سے بھڑک اٹھی اور علی گڑھ سے آگرہ تک اور فرخ آباد سے ریاست الور تک کے علاقے اس کی زد میں آگئے۔چوہدری افضل حق صاحب ( مفکر احرار نے علماء کی غفلت و بے حسی پر اظہار تاسف کرتے ہوئے لکھا۔" آج سے پہلے اسلام کو تبلیغی جماعت سمجھا جاتا تھا۔مسلمان علماء اپنی خدمات کو جابجا ہر جگہ بیان کرتے تھے حالانکہ ان کی تمام کوششیں مسلمانوں کو کافر بنانے میں صرف ہوتی رہیں جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کے سب سے بڑے دعویدار موجود تھے۔ان ہی کے دروازوں پر مسلمان مرتد ہو رہے ہیں اور ان کے بنائے کچھ نہیں بنتی۔جن کے ہندوستان بھر میں کفر کے فتوے کام کرتے تھے ان کا اپنا عمل قریب کے مسلمانوں پر کچھ اثر نہ ڈال سکا تین چار سو برس سے ایک قوم اسلام کے دروازے کے اندر داخل ہوئی مسلمانوں کو متوجہ نہ پاکر آج پھر واپس چلی گئی ایک مسخرہ نے سچ کہا کہ ”علماء کا کام ہی مسلمانوں کو کا فر بنانا ہے“۔سو انہوں نے ملکانہ راجپوتوں میں اپنی کامیاب تبلیغ کر دی ہے حضرات فرنگی محل، حضرات دیوبند حضرات دہلوی کی صد سالہ اسلامی تبلیغ کا نتیجہ دیکھو کہ ان ہی اضلاع کے گرد و نواح میں ارتداد کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ہمارے علماء کے لئے اس میں عبرت ہے ان کے لئے ندامت سے گردن جھکا لینے کا وقت ہے اس فتنہ و ارتداد کی تاریخ اغیار کے لئے دلچسپ اور مسلمانوں کے لئے باعث شرم ہے۔" شردھانند کی طرف سے ہندوؤں کو میدان مسلمانان ہند خدا جانے کب تک خواب غفلت عمل میں آنے کی کھلم کھلا دعوت میں پڑے رہتے کہ وسط مارچ ۱۹۲۳ء میں مشہور آریہ سماجی لیڈر شردھانند نے جو اس تحریک کے پُر جوش علمبردار تھے اور سب سے بڑے لیڈر تھے اور جنہیں اس سے پہلے مسلمان علماء نے ” ہندو مسلم اتحاد" کے خیال سے نہ صرف "خلافت کانفرنس" کے نائب صدر ہونے کا موقعہ دیا تھا۔بلکہ