تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 335
تاریخ احمدیت جلد ۴ 327 خلافت ثانیہ کا دسواں سالی وقت میں یہاں سے چلاہوں میری جو حالت تھی یہ طلبہ ندوہ کے جو یہاں بیٹھے ہیں وہ اس کے شاہد ہوں جئے کہ میں نے اس وقت کوئی گالی نہیں اٹھا رکھی تھی جو میں نے ان ندوہ والوں کو نہ سنائی ہوگی کہ اے بے حیاؤ اور اے کم بختو ! ڈوب مرد یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ندوہ کو آگ لگا دو اور علی گڑھ کو بھی پھونک دو یہی الفاظ میں نے اس وقت کے تھے اور آج بھی کہتا ہوں۔اس وقت نہایت افسوس میں میں یہاں سے گیا تھا۔وہاں جا کر میں نے پوچھا کہ کیا واقعہ ہے لوگوں نے یہ بیان کیا کہ آریہ اس گاؤں میں آئے ہوئے ہیں اور وہ گاؤں کے نو مسلم راجپوتوں کو ہندو بنانا چاہتے ہیں۔مسلمان علماء کو بلوایا گیا ہے ایک کوس پر خیمہ کھڑا کیا گیا ہے تین سو روپے کھانے میں صرف ہوئے ہیں۔چندہ وغیرہ کیا گیا ہے۔وہ نو مسلم بیچارے یہ کہتے تھے کہ مناظرہ جانتے نہیں۔پڑھے لکھے نہیں۔آپ ہمارے اس گاؤں میں آئے اور یہاں آکر ہم کو سمجھائیے جو باتیں ہمارے دل میں ہوں گی ہم آپ سے کہیں گے۔آپ ان کا جواب دیجئے۔۔۔اس پر ایک شخص بھی راضی نہ ہوا کہ گاؤں میں جائے۔اس بات کا کوئی ڈر نہیں تھا کہ وہ لوگ خدانخواستہ فوجداری کریں گے یا ماریں گے کیونکہ پولیس اور تحصیل دار وہاں موجود تھے کہ امن و امان قائم رہے۔میں نے بالآخر یہ کہا کہ بھائیو! مجھے تو پالکی میں ڈال کر وہاں لے چلو میں چلتا ہوں لیکن کوئی شخص نہیں لے گیا۔غرض تین دن تک میں وہاں پڑا رہا۔بالآخر ان لوگوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم ہندو ہیں۔اس افسوس ناک واقعہ کے دو سال بعد علامہ شبلی نے " شدھی کے مقابلہ " اور اشاعت اسلام کی تجویز کے لئے ۶-۱۸۰۷ اپریل ۱۹۱۲ ء کا اجلاس لکھنو میں منعقد کیا۔اس اجلاس میں علامہ شبلی کی دعوت پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود ایدہ اللہ تعالیٰ اور خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔مگر علمائے کرام نے انسداد شدھی کے بارے میں کوئی عملی کارروائی کرنے اور تدابیر سوچنے کی بجائے اپنا سارا زور اس مخالفت میں لگا دیا کہ قادیانی کیوں بلوائے گئے ہیں ؟ چنانچہ جناب سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں۔مولانا یہ چاہتے تھے کہ اشاعت کے کام تمام فرقے مل کر کریں۔اس لئے مرزا بشیر الدین محمود احمد (صاحب) جو اب خلیفہ قادیان ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب تک کی شرکت سے انکار نہیں کیا گیا اس پر اسی جلسہ کے دوران میں مولانا پر یہ الزام رکھا گیا کہ انہوں نے قادیانیوں کو جلسہ میں کیوں شریک کیا؟ اور ان کو تقریر کی اجازت کیوں دی۔مگر مولانا شروانی کی ثالثی سے یہ بلا ٹل گئی"۔جناب سید سلیمان صاحب ندوی کی تحریر کے مطابق علامہ شبلی کے مد نظر " اشاعت و حفاظت اسلام " کی ایک اہم تجویز تھی۔جس پر وہ اجلاس لکھنو کے بعد کار روائی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن عملاً اگر کچھ ہوا تو صرف یہی کہ چند ماہ بعد وہ ندوہ سے مستعفی ہو گئے۔چنانچہ سید سلیمان صاحب خود لکھتے