تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 306
تاریخ احمدیت - جلد ۴ 298 خلافت ثانیه کانواں سال ہوئیں۔اور حضور نے متعدد اہم فیصلے فرمائے۔مثلاً۔غیر ممالک میں نئے مشن قائم کئے جائیں لیکن پہلے اسلامی بلاد اور جادا اور فلپائن وغیرہ کی طرف توجہ کی جائے اور ایسے لوگ وہاں بھیجے جائیں جو اپنا گزارہ بھی کریں اور ساتھ ہی تبلیغ بھی۔۲۔ہر جماعت میں امور عامہ کے لئے علیحدہ سیکرٹری مقرر ہو اور رشتہ ناطہ کے لئے ایک باقاعدہ رجسٹر رکھا جاوے۔چندہ کی وصولی کے نظام کو باقاعدہ کرنے اور نگرانی کرنے کے لئے انسپکٹر مقرر کئے جائیں۔- جس طرح مبلغین تبلیغ کے لئے جاتے ہیں اسی طرح واعظین بھی جائیں اور جماعت کو اخلاقی اصلاح کی طرف توجہ دلانے کے علاوہ عام دینی مسائل سے بھی آگاہ کریں۔۵ جماعت میں حفظ قرآن کی تحریک ہو۔مرکز سے ایک انگریزی اخبار جاری کیا جائے۔ے۔جو شخص کوئی نماز مسجد میں آکر باجماعت ادا نہ کر سکے اور کسی مجبوری کی وجہ سے رہ جائے وہ مسجد میں ہی آکر نماز پڑھے تاکہ آئندہ کے لئے اس کی سستی دور ہو۔- والدین اپنے بچوں کو نماز با جماعت ادا کرانے میں ذمہ دار ہوں اسی طرح مستورات کو پابندی نماز کی عادت ڈالی جائے۔۹- دو دو یا اس سے زائد افراد کی جماعتیں بنادی جائیں جو باہمی رشتہ اخوت و محبت استوار کر کے ایک دوسرے کی اصلاح میں محمد ہوں۔۱۰- مرکز سے مستورات کے لئے ایک رسالہ جاری کیا جائے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۱۹۲۲ء سے ۱۹۶۰ء تک مجلس شوری میں ٢١٠ بنفس نفیس شریک ہوتے رہے ہیں اور اس عرصہ میں حضور نے جس طرح قدم قدم پر ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں جماعت کی رہنمائی فرمائی ہے اور بے نظیر فراست و ذہانت ، حیرت انگیز قوت فیصلہ اور زیر دست مدبرانه قابلیت کا ثبوت دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اور مجلس شوری کی شائع شدہ رپورٹیں جو سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کے ایک اہم حصہ کی حامل ہیں اس امر پر شاہد ہیں اور جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۲ء کی شوری میں بتایا تھا شوری کے فیصلے اور تمام تر کار روائی مستقبل میں قائم ہونے والی عالمگیر اسلامی نظام کے لئے سنگ بنیاد بننے والی ہے۔جس پر دنیا کا آئندہ نظام استوار ہونے والا ہے۔اسی لئے حضور نے ۱۹۲۸ء میں نمائندگان شوری کے سامنے ارشاد فرمایا :- -