تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 307
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 299 خلافت ثانیه کانواں سال آج بے شک ہماری مجلس شوری دنیا میں کوئی عزت نہیں رکھتی مگر وقت آئے گا اور re ضرور آئے گا جب دنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنٹوں کے ممبروں کو وہ درجہ حاصل نہ ہو گا جو اس کی ممبری کی وجہ سے حاصل ہو گا۔کیونکہ اس کے ماتحت ساری دنیا کی پارلیمنٹیں آئیں گی۔پس اس مجلس کی ممبری بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گے۔" یہ عظیم الشان پیشگوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہونے والی ہے اس پر تو مستقبل کا مورخ ہی لکھ سکے گا۔مگر ہم یہاں ایک نشان کا تذکرہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اور وہ یہ کہ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت پر چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب مدتوں تک مجلس مشاورت میں حضور کے ساتھ بیٹھتے اور اس کی کارروائی چلانے میں مدد کرتے رہے۔خدا کی شان دیکھو وہ فرزند احمدیت جو مجلس مشاورت میں امیر المومنین کے پہلو میں خادمانہ حیثیت سے سلسلہ کی خدمات بجالا تا رہا۔خدا نے اسے عالمی اسمبلی کا ۱۹۶۲ء میں صدر بنا دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو ایک عرصہ سے یہ خیال تھا کہ ہندوستان اچھوت اقوام میں تبلیغ کی اچھوت اقوام میں تبلیغ کی جاوے۔تبلیغ کے عام فریضہ کے علاوہ آپ نے یہ بھی سوچا کہ ہندوستان میں ان قوموں کی تعداد کئی کروڑ ہے اور ہندو لوگ انہیں مفت میں اپنا بنائے بیٹھے ہیں۔پس اگر ان قوموں میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ ہو اور وہ مسلمان ہو جائیں تو ان کی اپنی نجات کے علاوہ اس سے اسلام کو بھی بھاری فائدہ پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ آپ نے اپریل ۱۹۲۲ء کے آغاز میں ایک سکیم کے مطابق پنجاب کی اچھوت قوموں میں تبلیغ شروع فرما دی اور ان کے لئے ایک خاص عملہ علیحدہ مقرر کر دیا۔آپ کی اس کوشش کو خدا نے جلد ہی بار آور کیا۔اور تھوڑے عرصہ میں ہی کافی لوگ حق کی طرف کھنچ آئے اور بہت سے مذہبی سکھ بالیکی اور دو سرے اچھوت اسلام اور احمدیت میں داخل ہوئے اس رو کا سب سے بڑا زور ۲۴ - ۱۹۲۳ء میں تھا۔جبکہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ یہ قومیں ایک انقلابی رنگ میں پلٹا کھا ئیں گی۔مگر اس وقت بعض خطرات محسوس کر کے یہ سلسلہ دانستہ مدہم کر دیا گیا اور انفرادی تبلیغ پر زور دیا جانے لگا۔اور خدا کے فضل سے اس کے اچھے نتائج پیدا ہوئے۔ابتداء میں یہ کام شیخ عبد الخالق صاحب نو مسلم کے ذریعہ سے مختصر پیمانہ پر قادیان سے شروع کیا گیا۔دو ڈھائی سال میں جو اچھوت حلقہ بگوش اسلام ہوئے ان کے ذریعہ سے ارد گرد کے دیہات میں تبلیغی جد وجہد جاری کی گئی اور پھر پورے ملک میں ان سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔۱۹۲۸ء سے مکرم جناب ۲۱۵