تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 305
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 297 خلافت ثانیه کانواں سال کے لئے مشعل راہ ہیں ان ہدایات کا خلاصہ یہ تھا۔ا ہر شخص دعا کرے کہ الہی میں تیرے لئے آیا ہوں تو میری راہ نمائی کر کسی معاملہ میں میری نظر ذاتیات کی طرف نہ پڑے۔میری نیست درست اور رائے درست اور تیری منشاء کے ماتحت ہو۔۲- رائے دیتے وقت صرف یہ امرید نظر رہے کہ جو سوال در پیش ہے اس کے لئے کونسی بات مفید ہے۔جذبات کی بجائے ہمیشہ واقعات کو مد نظر رکھنا چاہئے۔یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ ہماری تجاویز نہ صرف غلط نہ ہوں بلکہ غیروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ موثر ہوں۔۵- کوئی شخص پہلی بات کے محض دہرانے کے لئے کھڑا نہ ہونا چاہئے۔ہر شخص اپنا وقت بھی بچائے اور دو سروں کا وقت بھی ضائع نہ کرے۔ان قیمتی ہدایات کے بعد حضور نے مشورہ طلب امور کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔میر کی طبیعت خدا نے ایسی بنائی ہے کہ میں بھی سوچتا رہتا ہوں کہ کونسا کام کریں جس سے دنیا میں ہدایت پھیلے اور بعض دفعہ کوئی تجویز ایسی خوبصورت معلوم ہوتی ہے کہ اس پر عمل کرنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہوں اور وہ دن یادہ سال جس میں جماعت کا قدم آگے نہ ہو میرے لئے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔میں یہی چاہتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی کام نیا جاری ہو۔۔۔میری نظر اس بات پر پڑ رہی ہے کہ ہماری جماعت نے آج ہی کام نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ کرنا ہے۔دنیا کی انجمنیں ہوتی ہیں جو یہ کہتی ہیں آج کام کر کے دکھا دو اور لوگوں کے سامنے رپورٹ پیش کر دو۔مگر میں نے رپورٹ خدا کے سامنے پیش کرنی ہے اور خدا کی نظر اگلے زمانوں پر بھی ہے اس لئے مجھے یہ فکر ہوتی ہے کہ آج جو کام کر رہے ہیں یہ آئندہ زمانہ کے لئے بنیاد ہو۔پس مجھے آئندہ کی فکر ہے اور میری نظر آئندہ پر ہے کہ ہم آئندہ کے لئے بنیاد میں رکھیں جس کی نظر وسیع نہیں اسے تکلیف نظر آرہی ہے مگر اس کی آئندہ نسل ان لوگوں پر جو بنیادیں رکھیں گے درود پڑھیں گی وہ زمانہ آئے گا جب خدا ثابت کر دے گا کہ اس جماعت کے لئے یہ کام بنیادی پتھر ہے۔اس تقریر کے بعد حضور نے سلسلہ کے ہر ایک صیفہ کے معاملات پر غور کرنے اور تجاویز مرتب کرنے کے لئے سات سب کمیٹیاں مقرر فرما ئیں اور پہلے دن کا اجلاس ختم ہوا۔دوسرے دن مشاورت کی کارروائی (نمازوں اور کھانے کے وقفہ کے علاوہ) صبح سات بجے سے لے کر سوا دو بجے شب تک جاری رہی جس میں منتخب کمیٹیوں کی تجاویز اور احباب کی آراء پیش