تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 297 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 297

تاریخ احمد بیت - جل 289 خلافت ثانیہ کا نواں سال متعلق مستند معلومات بہم پہنچا سکتا ہوں۔اسی دوران ۱۹۴۲ء میں بابو عبد الکریم صاحب : سف زئی پوسٹ ماسٹر ( آف پونچھ) مرحوم نے لیبیا میں اقامت کے وقت از ہر (مصر) سے یہ دریافت کیا حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں یا وفات پاچکے ہیں ؟ اور جو شخص وفات مسیح کا قائل ہے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے تو شیخ الازہر نے یہ استفسار علماء از ہر اپنی کمیٹی کبار علماء الاز ہیں یعنی ازہر کے بڑے بڑے علماء کے ایک نامور ممبر اللاستاذ محمود شلتوت کو جواب لکھنے کے لئے دیا۔الشیخ محمود شلتوت نے پوری تحقیق کے بعد حضرت مسیح کی وفات کا فتوی دیا حسب دستور علماء از ہر کی کمیٹی میں پیش ہوا۔سب علماء از ہر نے اس جواب پر اتفاق کیا اور یہ فتویٰ مصر کے ایک کثیر الاشاعت ہفتہ وار اخبار الرساله والروایہ " میں "رفع عیسی " کے عنوان سے شائع کر دیا گیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد خود الاستاذ محمود شلتوت شیخ الازہر (RECTOR) کے از ہر یونیورسٹی کی طرف سے آپ کے تمام اہم فاوٹی دسمبر ۱۹۵۹ء میں "الفتاوی " کے نام سے شائع کر دیئے گئے "الفتاوی میں وفات مسیح" سے متعلق ان کا سابقہ فتوی بھی شامل کیا گیا جس کا خلاصہ خود الاستاذ IMA 174 شلتوت کے الفاظ میں یہ ہے۔(1) انه ليس فى القرآن الكريم ولا فى السنة المطهرة مستند يصلح لتكوين عقيدة يطمئن اليها القلب بان عيسى رفع بجسمه الى السماء وانه حى الى الآن فيها و انه ينزل منها اخر الزمان الى الارض۔(۲) ان كل ماتفيده الايات الواردة فى هذه الشان هو وعد الله عيسى بانه متوفيه اجله و رافعه اليه و عاصمه من الذين كفروا وان هذا الوعد قد تحقق فلم يقتله اعداءه ولم يصلبوه ولكن وفاء الله اجله و رفعه اليه۔" ترجمہ (۱) قرآن کریم اور سنت مطہرہ سے ہر گز کوئی ایسی سند نہیں ملتی جس کی بناء پر اس عقیدہ پر دلی اطمینان ہو سکے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے مادی جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہ وہ اب تک آسمان پر زندہ ہیں اور وہ آخری زمانہ میں زمین پر اتریں گے۔(۲) قرآنی آیات یہ بتا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انہیں وفات دے گا۔ان کا رفع فرمائے گا۔اور کافروں کے شرسے بچائے گا۔یہ وعدہ یقینا پورا ہو چکا ہے۔حضرت عیسی کے دشمن نہ انہیں قتل کر سکے اور نہ صلیب پر مار سکے۔اللہ تعالی نے ان کی زندگی کے دن پورے کر کے انہیں وفات دے دی اور ان کا اپنی طرف رفع فرمایا۔