تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 298
تاریخ احمدیت جلد ۴ 290 خلافت عثمانیہ کا نواں سال عالم اسلامی کی سب سے قدیم اور سب سے بڑی درسگاہ (یونیورسٹی) کے اس فتویٰ نے ممالک اسلامیہ میں زبردست ہلچل پیدا کر دی۔اور اس پر سب قدامت پسند علماء نے سخت نکتہ چینی کی اور آجتک کر رہے ہیں۔مصر کے ایک عالم الشیخ عبد اللہ محمد صدیق الغماری نے اپنی کتاب "اقامة البرهان على نزول عيسى فى آخر الزمان " میں اس کے خلاف زبردست احتجاج اور اسے مصیبت عظمیٰ اور اہم واقعہ قرار دے کر علامہ شلتوت کو اپنے ہندی بھائیوں کی دلداری اور حمایت کی خاطر یہ اپنا فتویٰ واپس لے لینے کا مشورہ دیا۔مگر علامہ الشیخ شلتوت برابر آخر دم تک اپنے موقف پر قائم رہے۔اور صاف صاف کہا۔" انا ابدیت رائی و لا يضرنیان اوافق القاديانية او غيرهم" یعنی میں نے اپنی رائے ظاہر کر دی ہے اور مجھے قادیانی جماعت یا کسی اور کی تائید و موافقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔الاستاذ شلتوت نے ۲ نومبر ۱۹۶۰ء کو شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ بلاد عربیہ سے ملاقات کی اور دوران ملاقات مسئلہ اجرائے نبوت کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ " ظاہری طور پر لفظ نبوت طبائع میں ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔اس لئے عوام اس اصطلاح سے مشتعل ہو جاتے ہیں۔مگر جو تاویل اور توضیح جماعت احمد یہ کرتی ہے اس قسم کی نبوت غیر تشریعی کی یقیناً گنجائش موجود ہے اور دوسری طرف بانی احمدیت کا لٹریچر اور اسلامی خدمات اس تاویل اور گنجائش کو قبول کرنے میں محمد ہیں"۔افسوس تین سال بعد علامه الاستاذ محمود شلتوت د سمبر ۱۹۶۳ء میں انتقال فرما گئے اور دنیائے اسلام ایک عالم متبحر سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئی۔الشیخ الاکبر علامہ محمود شلتوت کے علاوہ اور بھی کئی مقتدر علماء مسیح کی وفات کا فتوی دے چکے ہیں مثلاً الاستاذ مصطفى المراغی (از ہر یونیورسٹی) علامہ عبد الکریم شریف۔ڈاکٹر احمد ذکی ابو شادی الاستاذ عباس محمود العقاد - a مصری علماء مسئلہ ام الالسنہ اور مسئلہ وفات مسیح وغیرہ میں احمدیت کے علم کلام کی تصدیق کرنے کے بعد اب مسئلہ شیخ فی القرآن کے بارے میں بھی جماعت احمدیہ کا مسلک اختیار کر رہے ہیں چنانچہ الاستاذ عبد المتعال محمد الجبری نے ۱۹۶۱ء میں النسخ فى الشريعة الاسلامية كما افهمه شائع کی ہے جس میں قرآنی نسخ کے عقیدہ کا ابطال کیا گیا ہے۔مصری پریس پر جماعت احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں نے کہاں تک اثر ڈالا ہے؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے مصر کے با اثر اور مشہور رسالہ الفتح کے دو اقتباس کافی ہوں گے۔اخبار الفتح نے لکھا۔نظرت فاذا حركتهم امر مدهش فانهم رفعوا أصواتهم و اجر و ا اقلامهم باللغات