تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 296 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 296

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 288 خلافت ثانیه کانواں سال ایک ہی ایسا مسئلہ دکھایا جائے جو اسلامی شریعت میں موجود نہیں۔اور ضروری ہو۔مگر وہ کوئی ایسا مسئلہ پیش نہ کر سکے۔۱۹۳۳ء میں مولانا ابو العطاء صاحب فاضل نے مشہور عیسائی پادری ڈاکٹر فلپس (Philips) سے عیسائیت کے بنیادی عقائد پر مناظرہ کیا جس میں اسلام کو نمایاں فتح اور عیسائیت کو شکست فاش نصیب ہوئی۔مولانا ابو العطاء صاحب نے مباحثہ کی پوری روداد فلسطین کے عربی رسالہ البشارة الاسلامیتہ الاحمدیہ میں شائع کرتے ہوئے بلاد عربیہ کے تمام پادریوں کو چیلنج دیا کہ اگر ان میں طاقت ہے۔تو اس کا جواب دیں۔بعد ازاں اردو میں بھی "مباحثہ مصر" اسی چیلنج کے ساتھ شائع کیا گیا مگر آج تک نہ بلاد عربیہ میں نہ بر صغیر پاک وہند میں کیسی پادری کو اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت نہیں ہو سکی۔۱۶۵ ۱۶۴ مولانا ابو العطاء صاحب کے بعد مولوی محمد سلیم صاحب فاضل نے جولائی ۱۹۳۷ء سے دسمبر ۱۹۳۷ء تک مصر میں قیام کیا۔آپ مصر سے حج پر روانہ ہو کر ۱۰ مارچ ۱۹۳۸ کو قادیان میں واپس آئے۔اسی زمانہ میں ایک مشہور عیسائی عالم انستاس ماری کرملی نے نشوء اللغة العربية ونموها و اكتناء ھا کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں حضرت مسیح موعود کے اس نظریہ کی تائید کی کہ عربی زبان ام الالسنہ ہے۔۱۹۴۰ء کے قریب مولوی محمد دین صاحب مرحوم فاضل مجاہد تحریک جدید البانیہ سے مصر تشریف لائے اور دار التبلیغ کی سرگرمیاں با قاعدہ صورت میں ہونے لگیں۔ابھی آپ مصربی میں مقیم تھے کہ چوہدری محمد شریف صاحب فاضل فلسطین سے مصر تشریف لے گئے اور جماعت کی از سرنو تنظیم کی۔اور کئی اصحاب کو سلسلہ میں شامل کیا۔اور وقتا فوقتا آپ اپنے زمانہ اقامت بلاد عربیہ میں مصر جاتے رہے۔اسی زمانہ میں البانیہ کے دو طالب علم جامع ازہر میں بغرض حصول تعلیم داخل ہوئے جن کے متعلق از ہر کے حلقوں میں یہ شور اٹھا کہ یہ احمدی ہیں اس لئے ان کو اس اسلامی درسگاہ سے نکال دیا جائے علامہ مصطفیٰ المراقی شیخ الجامع الازہر نے ازہر کے نامور علماء کی ایک کمیٹی بنائی تاوہ پوری تحقیقات کر کے رپورٹ کرے کہ کیا جماعت احمد یہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے یا نہیں ؟ اور اگر اختلاف ہے تو کس قدر ؟ اس کمیٹی کی تشکیل پر چوہدری محمد شریف صاحب انچارج مبلغ بلاد عربیہ نے عربی رسالہ (البشری اور مصری اخبارات کے ذریعہ اس کا خیر مقدم کیا اور شیخ الجامع الازہر (علامہ مصطفے المراغی) کی معرفت کمیٹی کو سلسلہ احمدیہ کا ضروری لٹریچر بھیجا۔اور لکھا کہ میں خود بھی حاضر ہو کر جماعت احمدیہ سے