تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 290
تاریخ احمدیت جلد ۴ 282 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال ایک میدان میں ایک تنبولگا کر اس میں بکرے باندھ دیئے آپ سکھوں کا امتحان کرنا چاہتے تھے صبح کو کڑاہ پر شاد کھانے والے سکھوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج ہمیں چند سکھوں کے سرور کار ہیں آؤ کون ہمیں اپنا سر دیتا ہے۔ان میں سے ایک شخص اٹھ کر آگے بڑھا اور تنبو سے باہر گورو صاحب تلوار لے کر کھڑے ہو گئے وہ آگے بڑھا تو وہ تنبو میں لے گئے اور اسے ایک طرف بٹھا کر تلوار سے ایک بکرے کو مار دیا۔جب تلوار کی آواز باہر سکھوں نے سنی تو ان میں ہلچل مچ گئی پھر گوبند سنگھ صاحب خون آلود تلوار لے کر باہر آئے اور کہا کہ مجھے ایک اور سر کی ضرورت ہے۔پھر ایک دوسرا سکھ آپ کے ساتھ اندر گیا تو آپ نے اس کو پہلے سکھ کے ساتھ بٹھا دیا اور پھر تلوار ایک بکرے کی گردن پر ماری۔اب تو خون بھی تنبو سے باہر دکھائی دینے لگا۔سکھ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے اسی طرح آپ تیسری چوتھی اور پانچویں مرتبہ آئے اور صرف پانچ آدمی آپ کے ساتھ تنبو میں داخل ہوئے باقی سب بھاگ گئے ان پانچ سکھوں کو جنہوں نے اپنی جان قربان کرنے کا وعدہ کیا تھا پانچ پیارے کہتے ہیں اور سکھوں کی ہر بات پانچ باتوں پر ہی مقرر ہے۔پانچ پیارے ہیں پانچ لگتے ہیں اس احمدی مقرر نے کہا کہ لو ادھر تو صرف پانچ پیارے تھے آج تمہارا بھی امتحان ہو گیا کہ تم نے اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کر دیا۔وہ تو پانچ پیارے تھے۔احمدی جماعت کا ہر فرد پیارا ہے۔یہ تو صرف میرے دیکھے ہوئے حالات ہیں باقی انتظامات کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا۔اسی روز شام کے وقت اعلان کیا گیا کہ مرزا گل محمد صاحب کی حویلی میں عشاء کے بعد جلسہ منعقد ہو گا اور اس میں حضور بھی تشریف لائیں گے اور اس میں غیر احمدیوں کے لئے داخلہ کے ٹکٹ دیئے جائیں گے اور احمدیوں کی شناخت پر اندر آسکیں گے۔عشاء کے بعد جلسہ کا انتظام شروع ہوا۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے پولیس کے افسروں اور مجسٹریٹ وغیرہ کو جو احراریوں کے جلسہ میں آئے ہوئے تھے جلسہ میں شمولیت کے لئے دعوت دی جب یہ افسران جلسہ گاہ میں تشریف لاکر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے تو حضرت میر صاحب نے ان کو کچھ مٹھائی اور چائے پیش کی۔انہوں نے ابھی چائے پینی شروع کی ہی تھی کہ حضور تشریف لے آئے تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر حضور کا استقبال کیا۔حضور السلام علیکم کہہ کر اپنی کرسی پر تشریف لے گئے۔بیٹھنے کے بعد حضور نور اکھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کر دی۔تقریر اس موضوع پر تھی کہ گورنمنٹ نے پولیس اور باقی محکمے مظلوموں کی مدد اور ان کی دادرسی کے لئے بنائے ہیں مگر افسوس ہے کہ محکمے اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرتے بلکہ بر عکس اس کے ظالموں کی مدد کرتے ہیں حضور کی آواز اس قدر بلند تھی کہ حاضرین پر ایک سکتے کا عالم تھا۔اور ان کے سامنے پڑی ہوئی چائے اور مٹھائی انہیں ایسا ز ہر دکھائی دے رہا تھا کہ حلق سے نیچے نہیں اترتا تھا۔چائے اور مٹھائی کی طرح پڑی رہ گئی حضور مختصری تقریر کے بعد