تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 289
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 281 خلافت ثانیہ کا آٹھواں۔گے اس لئے صرف ایک شخص سیڑھی سے اترے اور جاکر حقہ پی آئے اور اس کے آنے کے بعد دو سرا جائے۔اس طرح سے میں نے خیال کیا کہ ایک ہی آدمی ایک وقت میں غیر حاضر رہ سکتا ہے اور اپنا بستر سیڑھی کے پاس لگا لیا۔حضور کی طرف سے ان دنوں جو ہدایات جماعت کو دی جاتی تھیں تعمیل کے لئے پھیلا دی جاتی تھیں۔عشاء کے بعد ابھی دو گھنٹے گزرے تھے کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب دو تین دوستوں کے ہمراہ مکان کے اوپر تشریف لائے اور مجھے او پر بلایا اور فرمایا کہ دیکھو آج رات قادیان میں ہر طرح کا خطرہ ہے اس لئے اپنے آدمیوں کو چوکس رکھنا۔میں نے اپنے تمام آدمیوں کو چوکس رہنے کے لئے ہدایت کردی۔اور کہا کہ ایک آواز آنے کے بعد دوسری کا انتظار نہ کریں اور فورا اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے آجائیں یہ ایک عجب رات تھی مگر خدائی وعدوں پر ایمان تھا۔رات کے دو بجے کے قریب جب احرار اپنے خیالات کو دماغوں میں لے کر محو خواب تھے اور ہر اک احمدی اللہ تعالٰی کے آگے دعا میں مصروف تھا منارة المسیح سے بگل کی آواز ایسے رنگ میں سنائی دی کہ گویا دہ صور اسرائیل تھی اور قیامت کا دن تھا۔ہر احمدی اپنی آرام گاہ سے فور اکھڑا ہو گیا اور بعض گھروں میں اس آواز سے بچوں کی چیچنیں سنائی دیں۔میں نے اپنے آدمیوں کو کہا کہ کہیں کچھ احمدی زخمی ہو گئے ہیں اور کہیں آگ لگ گئی ہے فورا چوک میں اپنے سامان کو لے کر کھڑے ہوں میں آگے آگے تھا میرے ہاتھ میں ایک بیلچہ تھا اور ایک خالی ٹین اور میں نے اپنے آدمیوں کو وہاں کھڑا کر دیا دیکھتے ہی دیکھتے احمد یہ اسکول کالج کے لڑکے چند منٹ کے اندر باہر کے محلوں کے احمدی دوست رات کے وقت مسجد مبارک کی طرف بھاگے اور جہاں جہاں جگہ ملی گلی کوچوں میں کھڑے ہو گئے اور ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا آپ نے اس بگل سے کیا سمجھا میں نے عرض کیا کہ دشمن نے ہمارے آدمیوں کو زخمی کر دیا ہے اور ہمارے گھروں کو آگ لگادی ہے یہی خیال لئے میں یہاں آیا ہوں کہ پتہ چلے تو اپنے فرض کو ادا کروں۔میر صاحب نے کہا کہ بس آپ لوگ جاکر آرام کریں کوئی بات نہیں۔ادھر تو یہ حالت تھی اور ادھر لشکر احرار کی یہ حالت تھی کہ وہ بگل کی آواز سن کر انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم پر آسمانی فوجوں نے حملہ کر دیا ہے اور ہم ہر طرح سے بے دست و پا ہیں۔ان میں سے کئی ایک کی چیچنیں بھی نکل گئیں۔جو کہ ہمارے رپورٹروں نے بتایا اور ہم نے احراریوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھی۔صبح کو ایک دوست نے مسجد مبارک کے چوک میں تقریر کی جس میں انہوں نے گورو گوبند سنگھ کے اس واقعہ کا ذکر کیا کہ سکھوں میں جو پانچ پیارے ہیں ان کا کس طرح امتحان لیا گیا اور وہ اس طرح کے گوبند سنگھ کے لنگر میں بے شمار سکھ حلوہ پوری کھانے والے موجود ہیں۔اس نے یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ کچھ کام بھی کر سکتے ہیں تو اس نے رات کے وقت