تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 291
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 283 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال تشریف لے گئے اور افسر بھی اٹھ کر جلسہ گاہ سے چلے گئے مگر احمدی اور غیر احمدی پبلک جم کر بیٹھی رہی حضور کے بعد میر محمد الحق صاحب نے ان اعتراضات کے جواب دینے شرون کئے جو احراریوں نے اپنے اسٹیج پر کئے تھے۔آپ قرآن اور احادیث سے ان کے جوابات دیتے تو غیر احمدی پبلک سے حوالہ حوالہ کے آوازے اٹھتے ادھر بنو احمدی احباب حوالے تلاش کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے وہ فورا کتاب میر صاحب کے آگے رکھ دیتے اور حضرت میر صاحب حوالہ پیش کر دیتے۔کئی غیر احمدیوں کی طرف سے یہ سنا گیا کہ آج تک ہم نے ایسے عالم نہیں دیکھے تھے کہ جو حوصلہ مندی سے اس طرح حوالے پیش کرتے ہوں اور مخالفین کی باتیں توجہ اور حوصلہ سے سنتے ہوں"۔(غیر مطبوعہ) ترکی اور حجاز کے حقوق کی حفاظت ۲۳ جون ۱۹۲۱ء کو جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، حضرت نواب محمد علی خان صاحب۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور بعض دوسرے سر بر آوردہ حضرات شامل تھے۔شملہ میں وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ سے ملاقات کی۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کا خیر مقدم کیا۔اور سلسلہ احمدیہ کے حالات بیان کرنے کے بعد وائسرائے ہند کی توجہ خاص طور پر تین باتوں کی طرف مبذول کرائی۔اول حکام میں یہ روح پیدا کی جائے کہ ان کا سلوک ہندوستانیوں سے برادرانہ ہو اور اقوام کے ساتھ مساویانہ سلوک ہو۔دوم ترکی حکومت کے ساتھ ہمیں ہمدردی ہے اگر پچاس سال کے بعد برطانوی حکومت کی مدد سے انس لورین فرانس کو واپس مل سکتے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ سمرنا اور تھریں ترکوں کو واپس نہ دلائے جائیں۔سوم ترکوں سے علیحدگی کے بعد حجاز کی آزادی میں کوئی خلل نہیں آنا چاہئے۔مسٹر چہ چل وزیر نو آبادیات نے ایک سکیم میں ذکر کیا ہے کہ اگر حکومت مجاز اپنے بیرونی تعلقات برطانوی حکومت کی نگرانی میں دیدے اور اندرونی امن کی ذمہ داری اٹھالے تو انگریزی حکومت اسے سالانہ مالی امداد دے گی۔یہ سکیم آزادی حجاز کے سراسر منافی ہے اگر حکومت حجاز واقعہ میں ملکی حفاظت نہیں کر سکتی تو حجاز ترکوں کو انہی شرائط پر واپس کر دینا چاہئے جن شرائط پر مسٹر چرچل اسے انگریزی حکومت کے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں۔