تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 269
261 خلافت ثانیہ کا سان حضرت خلیفتہ اصیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے رسالہ ترک موالات و احکام اسلام « معاہدہ ترکیہ اورمسلمانوں کا آئندہ رویہ میں مسلمانوں کو تحریک عدم موالات اور ہجرت کے نقصانات سے بروقت اختباہ فرما دیا تھا۔مگر مسلمان لیڈروں نے مسٹر گاندھی کی قیادت میں یکم اگست ۱۹۲۰ ء ا سے عدم تعاون کا منتظم پروگرام شروع کر کے ملک میں ایسی آگ لگادی کہ کوئی صوبہ اور کوئی ضلع محفوظ نہ رہا۔بلکہ قصبوں اور دیہات تک اس کی لپیٹ میں آگئے ہر طرف سیاسی جلسوں اور جو شیلی تقریروں کا بازار گرم اور مسلمانوں کی ہجرت کا تانتا لگا ہوا تھا۔لوگ اپنا گھر بار اور وطن عزیز چھوڑ ا عزاواقرباء سے منہ موڑ کر افغانستان کی طرف چلے جارہے تھے۔اس لئے حضور نے اپنے مذکورہ بالا مضمون میں مختصرا جن خیالات کا اظہار فرمایا تھا ان کو ایک اپنی کتاب ترک موالات و احکام اسلام (مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۰ء) میں از روئے آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ بڑی شرح دوسط سے ثابت فرما دیا۔اس لاجواب تصنیف نے جو ۹۲ صفحات پر مشتمل ہے جہاں حامیان "عدم موالات " و " ہجرت " کے خیالات و دلائل کی بے بنیادی ظاہر کر دی۔وہاں سنجیدگی سے غور کرنے والوں کے لئے کامیابی کا ایک نیا رستہ کھول دیا۔انہیں دعوت دی کہ یہ وقت اس مجرب نسخہ موالات کو استعمال کرنے کا ہے جس نے بغداد کی اسلامی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے ہلاکو خاں کے پوتے کو اسلام کی غلامی میں داخل کر دیا تھا۔اور جو خدائے واحد لاشریک کے عبادت گزاروں میں شامل ہو کر ایک نئی اسلامی حکومت کا بانی ہو ا تھا۔اس کتاب لاجواب میں حضور نے نہایت غیرت دلانے والے لفظوں میں لکھا کہ "اگر یہ درست ہے کہ ترک موالات سے ایک دو سال میں تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاؤ گے تو اسلام کی دوبارہ زندگی یقینا مسنہ گاندھی کے ہاتھوں ہوگی اور نعوذ باللہ من ذالک، ابد الآباد تک محمد رسول الله 6 سر مبارک بار احسان سے ان کے سامنے جھکا رہے گا۔حضرت مسیح تو خیر ایک نبی تھے۔اب جس شخص کو تم نے اپنا مذ ہبی راہ نما بنایا ہے وہ تو ایک مومن بھی نہیں پس محمد رسول اللہ ﷺ کی اس ہتک کا نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دیکھو گے اور اگر باز نہ آئے تو اس جرم میں مسٹر گاندھی کی قوم کی غلامی اس سے زیادہ تم کو کرنی پڑے گی جتنی کہ حضرت مسیح کی امت کی غلامی تم کہتے ہو کہ ہمیں کرنی پڑی ہے "۔افسوس کہ حضور کی یہ آواز بہرے کانوں سے سنی گئی۔عوام تو رہے ایک طرف مسلمانوں کے قومی لیڈروں نے اس امید خام کی وجہ سے کہ اتحادیوں کے ہاتھوں ترکی حکومت کو جو مشکل پیش آگئی ہے وہ حل ہو جائے گی۔اور ہم انگریز کی غلامی سے بھی آزاد ہو جائیں گے مسٹر گاندھی اور کانگریس کے