تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 268 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 268

تاریخ احمدیت۔جلد به 260 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال اصلاح کی فکر رکھو۔اور ان کو نصیحت کرو کہ وہ اگلوں کی فکر رکھیں۔اور اسی طرح یہ سلسلہ ادائے امانت کا ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہو تا چلا جاوے تاکہ یہ دریائے فیض جو خداتعالی کی طرف سے جاری ہوا ہے ہمیشہ جاری رہے اور ہم اس کام کے پورا کرنے والے ہوں جس کے لئے آدم اور اس کی اولاد پیدا کی گئی ہے۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔اللهم آمین۔”سیرت خاتم النبین " کی اشاعت اس سال کے آخر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی معرکتہ الآرا کتاب "سیرت خاتم النبین " کی پہلی جلد جو آنحضرت ﷺ کی کمی زندگی کے بصیرت افروز حالات پر مشتمل ہے۔شائع ہوئی۔ابتداء میہ کتاب ۱۹۱۹ء کے ریویو میں ماہوار چھپتی رہی تھی پھر نظر ثانی کے بعد کتابی شکل میں شائع ہوئی اس محققانہ تالیف نے جو آپ ہی اپنی نظیر ہے سیرت النبی ال کے چودہ سو سال کے اسلامی لٹریچر میں ایک شاندار اضافہ کیا ہے اور ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح آنحضرت رسول مقبول کی شان تمام نبیوں میں ارفع و اعلیٰ ہے اسی طرح سیرت خاتم النبین سیرت کی دوسری تمام کتابوں سے اعلیٰ و افضل ہے۔چنانچہ اس کے پہلے ایڈیشن پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے علاوہ سر محمد شفیع صاحب بیرسٹرایٹ لاء لاہور ، مولوی الف دین صاحب وکیل ہائیکورٹ پنجاب اور "آگرہ اخبار " (آگرہ) " میونسپل گزٹ " لاہور نے بہت عمدہ تبصرے کئے ہیں۔سیرت خاتم النبین " کا دوسرا حصہ اگست ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا جو ابتدائے ہجرت سے ۵ ہجری کے آخر تک کے واقعات پر مشتمل تھا اور اپنی ظاہری و باطنی خوبیوں کے لحاظ سے ایک زبردست علمی کارنامہ تھا۔حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے فرمایا ”میں سمجھتا ہوں رسول کریم ﷺ کی جتنی سیر تیں شائع ہو چکی ہیں ان میں سے یہ بہترین کتاب ہے اس تصنیف میں ان علوم کا بھی پر تو ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں اس کے ذریعہ انشاء اللہ اسلام کی تبلیغ میں بہت آسانی پیدا ہو گی"۔اس حصہ پر نواب سر سکندر حیات خان ، سیٹھ عبد اللہ ہارون ایم ایل اے کراچی ، ڈاکٹر سر محمد اقبال مولوی الف دین ایڈووکیٹ ضلع سیالکوٹ، نواب اکبر یار جنگ حج ہائیکورٹ حیدر آباد د کن ، مولانا سید سلیمان ندوی، رسالہ معارف (اعظم گڑھ) اور اخبار "سچ " لکھنو نے بھی بے حد خراج تحسین ادا کیا۔سیرت کا تیسرا حصہ جس میں غزوہ بنو قرینہ کے بعد سے لے کر آنحضرت ا کے تبلیغی خطوط تک کے واقعات درج تھے۔اپریل ۱۹۴۹ء میں شائع ہوا۔