تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 270
جلد ۳ 262 خلافت ثانیہ کا ساتھ آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔اور بعض بعض ممتاز لیڈروں نے تو ان کے لئے وہ کچھ کہا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح کہا گیا۔چنانچہ ظفرالملک صاحب علوی نے کہا کہ اگر آنحضرت ﷺ خاتم النبین نہ ہوتے تو میں ضرور کہتا کہ اس زمانے کے نبی مہاتما گاندھی ہیں۔جناب ڈاکٹر آصف علی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ” میں صدق دل سے یقین کرتا ہوں کہ اس صدی کے مجدد مہاتما گاندھی ہیں۔مولانا شوکت علی نے کہا۔میں کہتا ہوں امام مہدی گاندھی جی ہیں۔مولانا محمد علی جو ہر کامریڈ نے جیل سے پیغام بھیجا کہ میں آنحضرت ا کے بعد بے سوچے سمجھے مہاتما گاندھی کی پیروی کرتا ہوں۔(امیر شریعت احرار ) جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بھاری نے مسجد خیر الدین امرت سر میں کہا کہ میں مسٹر گاندھی کو نبی بالقوة مانتا ہوں "۔جناب ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار نے راولپنڈی میں ایک ہنگامہ خیز تقریر کے دوران میں کہا کہ میں وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو تلک اور گاندھی بتا رہے ہیں یہ اخلاقی قوت ان بزرگوں کی ہی کام کر رہی ہے۔یہ آسمانی قوت ہے۔ہندوؤں نے اور مہاتما گاندھی نے مسلمانوں پر جو احسان کئے ہیں ان کا عوض ہم نہیں دے سکتے۔ہمارے پاس زر نہیں ہے جب جان چاہیں ہم حاضر ہیں۔راولپنڈی کے بعد انہوں نے کلکتہ میں کہا۔انڈین نیشنل کانگریس نے کلکتہ کی تاریخی سرزمین پر ایک اجلاس خاص منعقد کیا اور اس مشترک پلیٹ فارم پر سے جس کی تعمیر خود خدائے قادر و قیوم کے مقدس ہاتھوں کی رہین منت ہے۔اس آواز کی ایک قرنا پھونکی گئی ہے اس وقت برطانیہ اقتدار کے جو اس درست کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ " عدم تعاون " ہے - لیکن آوا جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے قبل از وقت انتباہ فرما دیا تھا۔اس تحریک نے مسلمانوں کا رہا سہاد قار خاک میں ملا دیا۔اور انہیں تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا۔اور مسلمانان ہند کی ملی زسیاسی زندگی کا یہ خونچکاں حادثہ آج بھی ایک غیور - درد مند مسلمان کو تڑپا دینے کے لئے کافی ہے۔چنانچہ سید رئیس احمد صاحب جعفری لکھتے ہیں :- اٹھارہ ہزار مسلمان اپنا گھر بار جائداد اسباب غیر منقولہ اونے پونے بیچ کر خریدنے والے زیادہ تر ہندو تھے۔افغانستان ہجرت کر گئے وہاں جگہ نہ ملی واپس کئے گئے کچھ مرکھپ گئے جو واپس آئے تباہ حال ، خسته درمانده مفلس ، قلاش، تہی دست بے نوائے یار و مددگار۔اگر اسے ہلاکت نہیں کہتے تو کیا or کہتے ہیں" "۔میاں محمد مرزا صاحب دہلوی لکھتے ہیں۔کچھ دنوں بعد جب مورخ کا بے رحم قلم اس ایجی ٹیشن کے جذبی اثر سے آزاد ہو کر اس کا جائزہ لے گا۔اور خالص سیاسی نقطہ نظر سے اسے جانچے گا۔تو