تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 244
تاریخ احمدیت جلد ۴ 236 خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ۱۹۴ پیغام صلح ۶ / اگست ۱۹۱۴ء صفحه ب - ج - ۱۹۵ - الفضل ۳/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ کالم ٣ الفضل ۴ / اکتوبر ۱۹۱۴ء صفحہ اکالم او الفضل ۱۰/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ کالم ۲-۳- ۱۹۶۔یادر ہے اس سے قبل ترکی کے سلطنت برطانیہ سے نہایت گہرے تعلقات تھے۔چنانچہ شیخ عبد القادر صاحب بی۔اے بیر سٹرایٹ لاء سیکرٹری خلافت کمیٹی سیالکوٹ لکھتے ہیں۔" حضور سلطان المعظم خلیفتہ المسلمین نے سلطان ٹیپو کے نام ایک مراسلہ ارسال کیا اور اس دین کے پکے مسلمان نے خلیفتہ المسلمین کے حکم کو سر آنکھوں پر رکھا اور جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں غدر مچا اس غدر کو فرو کرنے کے لئے انگریزوں کی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجازت حضور خلیفتہ المسلمین سلطان المعظم نے دی تھی جنوبی افریقہ میں جنگ بوئر ہوئی۔ترکی نے انگلستان کا ساتھ دیا۔ہزار ہا ترکوں نے انگریزی جھنڈے کے نیچے لڑنے مرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔مساجد میں انگریزوں کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔ترکی کے ار مینوں پر فرضی مظالم صفحه ۲۳ شائع کرده مجلس خلافت پنجاب) مطبوعہ ۱۹۲۰ء- ۱۹۷ تاریخ اقوام عالم صفحه ۶۷۶۶۷۴ ( از مرتضی احمد خاں میکش) شائع کردہ مجلس ترقی اردو کلب روڈ لاہور۔۱۹۸ تاریخ اقوام عالم صفحه ۷۸۵-۶۸۲ 199۔ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۳۹۹-۴۰۵- ۲۰۰ تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحه ۱۳ از حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق نعمانی ) طبع اول ۲۵/ دسمبر ۱۹۲۱ ء و تذکره طبع دوم صفحه ۷۹۵ - ۲۰۱ اس سلسلہ میں مولانا سید میاں محمد صاحب ناظم جمعیتہ العلماء ہند نے اپنی کتاب علماء حق کے کارنا ہے میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ ہندوستان کے یہی غیور مسلمان جو علماء ملت پر ہندو پرستی کا الزام لگاتے ہیں گزشتہ جنگ جرمنی کے زمانہ میں انہوں نے عراق شام ایران وغیرہ وغیرہ اسلامی ممالک کو انگریزوں کے لئے کیوں تباہ کیا۔خاص قبلہ ایمان اور کعبہ اسلام پر کیوں گولیاں برسائیں اس کا سب بھوک اور فاقہ بے روزگاری اور قید ستی تھی؟ یا ان کے دلوں میں اسلام اور ایمان سے مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ سے عربوں اور ترکوں سے کوئی بغض بھرا ہوا تھا"۔(صفحہ ۲۸۴) ۲۰۲۔دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ صفحہ ۱۶۱-۱۶۳- از سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی) طبع اول ۲۰ الفضل ۱۵/ ستمبر ۱۹۱۴ء صفحه ۵-۶- ۲۰۴ - اخبار سرمه روزگار آگرہ یکم دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۷۔۲۰۵ پوری مسدس اخبار وکیل (امرتس) مورخہ / مئی ۹۸ اور ستاره صبح مورخہ 1 مئی ۱۹۱۸ء اور کتاب یادگار جنگ (پنجاب پلیٹی کمیٹی لاہور ) صفحہ ۱۷-۱۸- پر موجود ہے۔ایضا ذ کر اقبال (از عبد المجید سالک) صفحه ۸۷ ٢٠ - الفضل ۶/ ستمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۹- ۲۰۷۔حضرت اقدس کی ایک تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسٹرما تیگو وزیر ہند تھے۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحه ۳۸۰۳۷) ٢٠٨- الفضل ۵/ اکتوبر ۱۹۴۴ء صفحه ۳ ٢٠٩- الفضل ۲۱/مئی ۱۹۴۷ء صفحہ ۴۔۲۱۰ مکمل خط ملک فضل حسین صاحب مہاجر نے ریویو آف ریلیجہ اردو مئی ۱۹۳۱ء صفحہ ۷ - ۳ پر چھپوا دیا تھا۔۲۱- اس تبلیغی مہم کی تفصیلات خود حضرت حکیم مولوی عبید اللہ صاحب بسمل نے مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر کو لکھوادی تھی۔مگر افسوس وہ شائع ہونے سے پہلے ہی ایک خادمہ کے ہاتھوں ضائع ہو گئے۔۲۱۲- ریویو آف ریلیجز اردو جلد ۱۳ صفحه ۴۲۱-۴۲۷- ۲۱۳۔انہی دنوں ترکی کے شامل جنگ ہونے پر دوسرے مسلمانان ہند نے بھی انتباہ کیا تھا چنانچہ قاضی سراج الدین احمد صاحب بیر سٹرایٹ لاء راولپنڈی نے حقیقت خلافت اور مسلمانوں کا فرض میں لکھا یورپ میں اس لڑائی کے شروع ہونے کے بعد مسلمانان ہندوستان نے ترکوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اس لڑائی میں غیر جانبداری کی وضع اختیار کریں۔لیکن آخر کار ترکوں نے اس مشورہ کو نهایت حقارت کے ساتھ رد کر دیا اور جرمنی کی جانبداری اختیار کرنے سے انگلستان فرانس اور روس کی رعایا کو ایک غیر مطبوع اور تشویشناک حالت میں ڈال دیا۔در حقیقت ترکوں نے اس موقع پر مسلمانان عالم کے ساتھ اس سے بھی بڑھ کر برائی کی